بچّوں کی اہمیت

جب آج کے اچھے پڑھے لکھے ماں باپ سے پوچھا جاتا ہے کہ اپکے گھر سب میں زیادہ اہمیت کا حامل کون ہے تو عام طور پہ جواب “ننّھے منّے معصوم بچّے ہی ہوتا ہے”, وجہ کسی کو نہیں معلوم ۔ کبھی تو والدین اس سوال پہ جزباتی ھوجاتے ھیں اور ہمیں تنقید کا سامنا کرنا پرتا ہے کہ اپنے یہ سوال پوچھا کیسے, شرم نہیں آتی اپکو یہ سوال پوچھتے ہوے ۔ اسی تصوّر کو دماغ میں رکھتے ہوئے اس خاکہ کے ذریعہ بہت سارے نکات کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے۔

ہمارا سوال یہ ہے کہ کس نے ان چھوٹے جانداروں کو یہ درجہ دیا  ہے یا ایسی کونسی وجوہات ہیں جس کی وجہ سے انکو ایسے اعزازوں اور خدمات سے نوازہ جاتا ہے۔

اگر اپنے دماغوں کو وسیع کرنے کی کوشش کرتے ہوے (مانتا ہوں مشکل ہے) ان نکات پہ غور کریں کہ آج اِنکے بچّے جس بھی مقام پہ ھیں صرف اور صرف اِن ہی کی بدولت ہیں۔ بچّوں کا وجود ہی اِنکے والدین کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ رہن سہن ، یہ اچھے سے اچھے کپڑے ، یہ پڑھائیاں ، ہر قسم کہ لذیذ کھانے، گھر والدین کی ہی وجہ سے ہیں۔ پھر بھی والدین اپنے چھوٹے آقائوں کی اس طرح خدمت کرتے ھیں جیسے کبھی بھی اِن کو سزاے موت سنائی جا سکتی ہے ورنہ کوئی نہ کوئی سزا کے تو ضرور مرتکب ہوں گے۔ یہاں خدمت سے مُراد بچوں کی ضرویات پوری کرنا ہرگز نہیں ہے۔ یہاں خدمت کو بچّوں کا بِلا وجہ وکیل بننے ، اُن کی ناجائز باتوں کو صحیح ثابت کرنے، اُن کےغصّوں کو برداشت کرنے ، غصوں کے نشاندہی کرنے اور اُن کے غلط حرکتوں کو مزاق بنانے سے تشبیع دیا جارہا ہے۔ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ والدین کا پیار بہت عجیب شہ ہے صحیع مقدار میں ہو تو اِقبال ، جوہَر اورعِمران پرورش پاتے ہیں ورنہ بچّے تباہ و برباد ہوجاتے ہیں۔

  بچّے جتنے ہی بڑے یا چھوٹے ہوجائیں ، جتنے پڑھے لکھے یا ان پڑھ ہوں، جتنے کامیاب یا ناکام رہیں کسی بھی طرح اپنے ماں باپ سے زیادہ اہمیت کے حامل نہیں ہوسکتے۔

فوج میں سب سے زیادہ عزت اور اہمیت آفیسر کی ہوتی ہے ، اس طرح کلاس میں بھی استاد کی عزت کا کوئی ثانی نہیں ہوتا ، جو اہمیت ڈاکٹر کو حاصل ہے وہ کسی اور کو نہیں اور کمپنی میں کسی کی مجال نہیں ہوتی کے مالک کو کچھ کہ سکے۔ یہی عزت والدین کی بھی ہوتی ہے، چاہیے جو کچھ بھی بچّوں کی عمر ہو۔

والدین کی اوّل فکر یہ نہیں ہونی چاہیے کے اُن کے بچے اپنے اسکولوں میں اے گریڈ حاصل کریں ، کھیلوں میں سب کو پیچھے چھوڑ دیں یا بہت ہی اعلا درجے کے آفسر ، سرجن بن جائیں بلکہ ہمیں تو ایک ایسی نسل تشکیل دینی ہے جو اپنے الّلہ رسول ﷺ کو راضی کرے ، حقوق الّلہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد بھی خوش اسلوبی سے انجام دیں اور معاشرے، برادری اور ثقافت کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چل سکیں۔

“ہمارا بچا اِس گھر کا سب سی زیادہ اہم فرد ہے۔”

سوچیں ! اپنے بچوں کو اوّل اور اہم بنانے کے لیے کیا کیا کھو رہے ہیں ۔

 John Rosemond کی تحقیق کے کچھ نکات پر نظر

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s