پہلا سفر( حصہ اوّل )

زندگی بھی ایک عجیب شہ کا نام ھے، کس کو کہاں کب کیسے بدل دے کچھ نہیں بتا سکتے۔ کس نے سوچھا تھا کہ ایک لڑکا جس کے کالج کے دوستوں نے اُسکا گھر تک نہیں دیکھا تھا ، کالج تک اُسکا کوئی ایسا دوست نہیں تھا جس کے ساتھ وہ حیدرآباد سے کراچی تک کا سفر طے کرسکے ، آج کراچی سے لاہور کے سفر پہ گامزن ہے۔ ایسے ساتھیوں کے ساتھ جن کو وہ صرف چھ ماہ سے جانتا ہے یہاں یہ بات لکھنا اس لیے ضروری سمجھتا ہوں کیوںکہ سفر میں آپ یہ دھیان رکھیں کے یہ ایک بلکل ہی نیا امتحان ہے۔

آغازِ دن عفّان بھائی کی کال سے ہوا، نصف بند آنکھوں سی کال کو موصول کرتے ہوئے عفّان بھائی کو یہ یقین دہانی کروائی کہ پڑھائی کی وجوہات کچھ اس طرح سے ہیں کہ لاہور جانا کسی صورت مناسب نہیں۔ دن کے گزرنے کے ساتھ ساتھ جب یہ بھید مجھ پہ واضع ہوا کہ میرے لیے دو افرادِ محترم قربانی دیے بیٹھے ہیں اور پڑھائی کی مجبوریاں بھی سنبھالی جا سکتی ہیں تب دل میں ایک عجیب سی خوشی نے جنم لیا اور اپنے آپ سے سوال کیا کے کیا میں بھی لاہور جا سکتا ھوں؟ ۔ جواب ہاں میں تھا ، دماغ و دل یہ ٹاسک قبول کرچکے تھے ۔ حال ہی میں حیدرآباد سے واپسی پہ اس خیال نے میرے ذہن میں جنم لیا تھا کے یار ٹرین کے اصل سفر کا مزہ تو لمبے روٹ پر ہے اور لو آج ہم موجود ہیں اُسی سفر پہ جس کا تزکرہ صرف اپنے آپ سے کیا تھا، بیشک وہ ذات دلوں کے حال جانتی ہے اور ایسے غیب سی نوازتی ہے جہاں ہمارا گمان بھی نہیں ہوتا۔

یونیورسٹی کے بعد چار بجے آفس میں ملنے کا پروگرام ترتیب پایا تھا ، ہم نے بھی کراچی والے ہونے کا ثبوت دیتے ہوے ساڑھے چار بجے آفس میں قدم رکھا اور حذیفہ بھائی کے ساتھ لمبے کرنے میں مصروفِ عمل ہوگئے۔ عمیر بھائی اور حسّن بھائی کی آمد نے کہانی کو دل چسپ اس وقت بنایا جب ہم سے یہ سوال کیا گیا کہ بھائی روانگی کب اور کیسے ہے پہلے تو دل تو زور سے حماس ملک والا قہقہا مارنا کا کیا لیکن پھر آفس کے تقدس کا خیال کیا اور اپنے آپ کو کسی بھی قسم کی ٹھنڈی کرنے سے پرہیز کیا۔ تھوڑا ہاتھ پاؤں مارنے کے بعد قاضی بھائی نے مشکلات کو دور کیا اور ٹرین کی ٹکٹوں کا انتظام  شالیمار لوّر اے سی میں کروا دیا

ان ساری ہستیوں سے تعارف نہ کروانے کی وجہ یہ ہے کہ الفاظوں کا کافی کثیر مجموعہ درکار ہے اس کام کو انجام دینے کے لیے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ لمبی نہ کی جائے۔ آفس سے پانچ بندے اؤبر میں شام کے وقت روانہ ہوئے۔  یہ وہ پہلا اتفاق تھا جب سوچا کے شاید پیدل ہی اسٹیشن چلے جاتے تو زیادہ بہتر تھا کیونکہ ڈرائیور اور اسکے سوالات یا خدا۔ سب سے زیادہ مزیدار سوال قاضی بھائی سے ہوا۔ “یہ آپ لوگ سب ایک جیسی شکل کے مالک کیوں ہوتے ہیں”،  اب اسکا جواب قاضی بھائی کے پاس تو نہیں تھا مگر ہم چار لوگوں کے پاس ایک سوال ضرور تھا کے یہ بندا کون ہے؟ آئی ایس آئی، ایم آئی یا کوئی اور ۔ پھر رات تک قاضی بھائی کے ساتھ لمبی اور کچھ یادیں تازہ کرنے دوسرے آفس چلے گئے وہاں اس بات سے بھی پردہ اٹھایا گیا کہ جن موصوف کو ٹکٹ لینے بھیجا تھا وہ محترم اکانومی کا ٹکٹ لے ائے ہیں اور ٹرین کل صبح چھ بجے کی ہے، اتنا فارغ اپنے اپ کو سالوں سے محسوس نہیں کیا تھا، اب ہر کام ہم دھیرے دھیرے کر رہے تھے، کیونکہ وقت تو اب ہمارے باپ کا غلام بن گیا تھا۔ اس کے بعد اپنے آپ کو تنویر بھائی کی مہمان نوازی میں پیش کردیا کہانی کے اتنے تیز گزرنے کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمیں خود نہیں پتہ چل رہا تھا کے کیا چل رہا ہے۔ وقت گزرنے کی اصل وجہ قاضی بھائی کی باتیں تھیں، آپس کا شغل یا رات کی مست نیند ابھی تک واضح نہیں ہے۔ صبح اسٹیشن کے باہر ناشتے کے بعد چھ بجے آغازِ سفر ہوا۔ ہم، عمیر بھائی، تنور بھائی ،حسّن بھائی ،حذیفہ عرف چیکو، اور سفید شلوار قمیض میں ملبوس آنکل ٹرین میں سفر کی نیّت کرچکے تھے ۔

سفر کے آغاز سے ہی کارستانیاں شروع ہوگئی ہیں، میرا ٹکٹ چھُپا کرٹکٹ چیکر کو گمراہ کرنے کی سازش کی گئی وہ تو بھلا ہو ہماری گہری اضطراری کا کے وہ کوشش بھی ناکام کری اور اب تک بھی بچے ہوے ہیں۔ اب ٹرین حیدرآباد کی طرف رواں دواں ہے فی الحال سوجانے میں ہی بھلائی ہے۔

بقہ حصہ نیند مکمل ہونے کے بعد۔۔۔۔۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s