بناؤ اور بگاڑ

ان الفاظوں کو ترتیب دینے کا مقصد کسی کی دل آزاری ، حوصلہ شکنی، کسی نئ بحث کا آغاز یا کسی بھی فرد،تنظیم یا جماعت  کو تنقید کی بھینٹ چڑھانا ہرگز نہیں ہے ،بلکہ اُس نقطہ نظر اور سوچنے کے زاویے کا پرچار کرنا ہے جس سے آج برِصغیر کے لوگ خاصے دور چلے گۓ ہیں۔ جی آپنے سہی پڑھا برِصغیر کیونکہ ہمیں پوری دنیا کی اصلاح کے لیے بھیجا گیا ہے نہ کہ صرف پاکستان کے لیے۔

اس بات کو سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ اس دنیا کو جس خدا نے تخلیق کیا ہے ، اِس کے آسمانوں کو گرنے سے روکے رکھا ہے، اِن سمندروں کو زمینوں پہ چڑھ  دوڑنے سی باز رکھا ہے ، اِس زمین میں طرح طرح کے خزانے آگائیں بھی ہیں اور دفنائیں بھی ہیں ان پہاڑوں ، سورج ، چاند و ستاروں کو اپنے تابع رکھا ہے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے اس بچھائے ہوئے اَرض پہ کچھ بھی اپنی مرضی کے منفی ھونے دے۔

جس طرح سے صبح سورج کا مشرق سے نکل کر مغرب میں غروب ہوجانا، زمین کا ایک ہی زاویے اور رفتار سی سورج کے گرد گھومنا ، حلانکہ پوری نظامِ کائنات ایک مکمل منصوبہ بندی اور قانونِ خداوندی کے تہت چل رہا اور خدا آپنے قانون میں تبدیلی بہت کم کرتا ہے۔ اور اسکا ایک قانون اور اصول یہ ہے کہ وہ بناؤ کو پسند کرتا ہے اور بگاڑ کو پسند نہیں کرتا۔

آج تک اس زمین پر جتنی بھی قوموں کو حکمرانی نصیب ہوئی ہے ،انہوں نے یا تو اس دنیا میں کو بنایا یا اس دنیا کے لیے بگاڑ کا سبب بنے۔ خدا نے آدم علیہہ سلام سے اب تک اپنی زمین پر کبھی ایسی قوم، بادشاہ یا حکمرانوں کو برداشت نہیں کیا جو بناؤ سی زیادہ بگاڑ کا سبب بنے۔ فرِعون کو بادشاہت اپنے عدل و انصاف کی وجہ سے ملی رہی ، وہ تو جب اسنے خدائی کا دعوا کیا تب خدا نے اسکو نِیست و نابود فرمایا ، مسلمانوں نے بھی تب تک دنیا پے حکمرانی کری جب تک بگاڑ کی روش اختیار نہ کرلی پھر مغلوں نے بھی تب تک عیاشی کی جب تک برَصغیر کی خدمت کرتے رہے، جہاں خدمت رکی وہاں خدا نے کچھ مصیبتوں کی شکل میں موقعے فراہم کیے کہ باز رہو پھر بلاآخر انگریزوں کو لاکر بیٹھا دیا اور ان سے بناؤ کے کام لیے۔ نسل ، رنگ ، غصے کو اگر ایک طرف رکھ دیں اور اپنے دماغوں پہ زور ڈالیں تو اس بات کو رَد کرنا انتہائی اہمقانہ ہوگا کہ انگریزوں نے پوری دنیا میں کوئی سوارنے اور سدھارنے کے کام نہیں کرے، انگریزوں نے دنیا کے جن ملکوں میں حکمرانی کری وہاں اتنا کام کیا کے وہاں کے مقامی حکمران بھی پورے مخلص دل و دماغ کے ساتھ نہیں کرسکتے تھے، پھر انگریزوں کے ساتھ بھی خدا نے دو سو سال بعد انصاف کا معاملہ فرمایا جب انہوں نے بگاڑ کی روش کو اپنا لیا۔ اصول صاف ہیں کے دنیا کا انتظام ٹھیک کیا جائے، اسے زیادہ سے زیادہ سنوارا جائے ، اس کے دیے ہوے زرائع اور بخشی ہوئی قوتوں اور قابلیتوں کو زیادہ سے زیادہ بہتر طریقے سے اس استعمال کیا جائے۔

خدا ، دنیا اور دنیا کی بادشاہت اسی طرح ہے جیسے کوئی مالک اپنے باغ کے لیے مالی کا انتخاب کرتا ہے۔ جب تک مالی باغ کی خدمت اور بناؤ سنگھار میں لگا رہتا ہے اپنی ساری محنت اور قوّت باغ کی ترقی اور حسن کو بڑھانے میں خرچ کرتا رہتا ہے مالک اُس کو اسکے عہدے پہ فائز رکھتے ہے۔ مگر جہاں وہ سستی ، بے پرواہی اور ہٹ دھرمی کی روش اختیار کرلیتا ہے تو مالک اسکو کسی بھی مزہبی سفارش کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اس باغ کے اعلا عہدوں سے بے دخل کرکے ان پر دوسرے لوگ فائز کردیتا ہے۔  کچھ قومیں اس بات کو اپنا حق تصوّر کر رہی ہیں کے ہمیں پھر سے اس باغ کی حکمرانی ملے گی کیونکہ ہمارے باپ دادا نے اس باغ کی خوب خدمت کری تھی یہ دو پودے میرے آبا حضور کے لگائے ہوئے ہیں ، وہ والا درخت میرے چاچا نے لگایا تھا ، یہ ایک خام خیالی ہے۔ انہوں نے کچھ بھی کیا ہو مالک کا اصول یہ ہے کہ ہم آج کیا کرسکتے ہیں ، اس باغ کی حکمرانی صرف ان کو ملتی ہے جو کے مخلصانہ دل و دماغ کے ساتھ اس کی خدمت اور ترقی کا عزم رکھتے ہیں۔ یقین نہیں آتا تو وہ چھوٹی آنکھوں والے زیادہ دور نہیں ہیں۔

یہ ساری باتیں کرنے کا مقصد کسی کو ناامید کرنا ہرگز نہیں ہے، نہ تو میں ناامید ہوں اور نہ ہی ناامید کرنا چاہتا ہوں۔ یہ تحریر تو وہ بادشاہی سوچ کے خاتمے اور اصلاح کی طرف محنت کی ترغیب دینے کے لیے ترتیب دی گئی ہے۔

  بگاڑ کے عناصر :۔

خدا کا خوف دلوں سے ختم ہوجانا ، جو کے برائی کی جڑ ہے

خدا کی ہدایت سے بےنیازی

خود غرضی

جمود یا بے راہ روی

اصلاح کے عناصر :۔

خدا کا خوف

خدائی ہدایت کی پیروی

نظامِ انسانیت

عملِ صالح

اگر ہم سب ایک نیک انسانوں کی تنظیم کی طرح بگاڑ کے اسباب کو روکنے اور بناؤ کی صورتوں کو عمل میں لانے کے لیے پیہم جدوجہد کریں جو کے باشندوں کو راہِ راست پہ لاسکے تو وہ خدا بے انصاف نہیں ہے جو اس دینا کی زمہ داری کسی نالائق کو سونپ دے، مگر اگر اس کے برعکس ہوا تو شائد ہم اندازہ بھی نہیں لگا سکتے یہاں رہنے والوں کیا انجام ہوگا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s