معمولی یا خاص

کلاس کے دوران ہی اس بات کا راز ہم پہ آفشاں ہوا کے چھٹیوں کے لیے زیادہ دن نہیں مل رہے ہیں جس کی وجہ سے فوراََ ہی گھر پہنچ کر جلدی جلدی کپڑے سمیٹے اور اپنی منزل کی طرف نکل پڑے ، آج کا موسم بقی دنوں کے مقابلے قدرے بہتر معلوم ہورہا تھا، اس دفعہ ٹرین کے بجاۓ بس کے سفر سفر کا انتخاب کیا گیا تھا، یہ فیصلہ صرف اور صرف وقت کی نزاکت کو مدِنظر رکھتے ہوۓ کیا۔ جلدی جلدی گھر سے چل پڑے اور بس اسٹیشن کا راستہ لیا، بس اسٹیشن پہنچ کر سب سی پہلے بسوں کا جائزہ لگایا۔ موسم آبرالود ہوچکا تھا۔ مگر  حبس کا تناسب ماحول میں زیادہ تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے باندھا ہوا ہے ہواؤں کو بادلوں نے۔ اسٹیشن میں نام کے پنکھے چل رہے تھے۔ اپنا سامان ایک سیٹ پہ رکھ کر، بقی مسافروں ، جو کے اپنے اپنے مشاغل میں مصروف تھے ، اُنکا جائزہ لیا اور ٹکٹ گھر کی طرف چل دیے جو کے خالی تھا سواۓ ایک ٹکٹ منیجر کے، بسیں متعدد تعداد میں اور مسافر قلیل پھر بھی کرایہ میں اضافے کی مانگ سراسر ناجائز تھی۔ جس کی وجہ سے منیجر سے بحث ضروری تھی۔ ابھی اپنا ٹکٹ مناسب قیمت پر حاصل کرکے واپس اپنی سیٹ کی طرف لوٹ رہے تھے کے ایک دھیمی پرشگفتہ اور سہمی ہوئی آواز نے اگے بڑھتے  ہوۓ قدموں کو روک لیا۔ “وہ ۔۔۔ وہ بس والے زیادہ پیسے بول رہے ہیں ، آپ کچھ مدد کرسکتے ہیں؟” یہ اجنبی آواز کچھ اپنائیت کا لحجہ لیے ایک التجہ کا پتلہ بنی ہوئی تھی۔۔۔۔

سنیں۔ آپ میری بات سن رہے ہیں نہ” ، ابھی تک ہم ان کے لحجے کو پوری طرح قبول ہی نہیں کر پاۓ تھے۔ مڑ کر جیسے جیسے ان کو دیکھتے جا ہے تھے ، ہواؤں کی رفتار میں اضافہ محسوس ہوتا جا رہا تھا۔ سفید دپٹہ اور نیلا سوٹ زیب تن کرے ایک درمیانے قد کی محترمہ نہایت آدب اور شرمندگی کے ساتھ سر کو جھکاۓ ہمارے جواب کی منتظر کھڑی تھیں۔ شاید کوئی مجبوری ہوگی ورنہ وہ یہ جرّت کبھی نہیں کرتی اُس کی بودی لینگوئچ یہ صاف ظاہر کر رہی تھی۔ اُن کا اور امتحان نہ لیتے ہوۓ ہم نے حامی بھری اور ٹکٹ کاؤنٹر کی طرف ہولیے۔ راستہ کم اور ٹکٹ لینے والوں کی قطار خالی جس کی وجہ سے نہ ٹکٹ لینے میں وقت لگا اور نہ ہی اس واقع کے بارے میں سوچنے کا۔ ان کا ٹکٹ خریدا اور ان کو پیش کردیا۔ وہ مسکرائیں اور  پوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

ابھی ہم انکی مسکراہٹ کے معنٰوں میں سے معنٰی خیز بات آخز کرہی رہے تھے کے بس نے زور سی ہارن بجایا۔ بس کو آنے کے تسلی دی کر جیسے ہی دوبارہ انکی طرف مخاطب ہونے کے لیے مڑے تو وہ موصوفہ اس جگہ پہ نہ تھیں جہاں ہماری آنکھوں نے انھیں چھوڑا تھا۔ ابھی تو ہم صرف آنکھوں اور مسکراہٹ سے ہی آشنا ہوۓ تھے اور یہ ملاقات اتنی جلدی اختتام پزیر بھی ہوگئی۔ وہ مسکراہٹ ابھی بھی دل کی تسلی کا باعث بن جاتی ہے جب بھی اُس واقع کا زکر دماغ میں ہوتا ہے۔ ملاقات ختم ہونے کے صدمے سے اپنے آپ کو نکالا اور ان کو اِدھر اُدھر تلاش کیا مگر انکی کوئی جھلک بھی قریب میں نہ تھی۔ انکے پتے کے لالچ میں ٹکٹ کاؤنٹر کی طرف لپکے تو معلوم ہوا کے وہ ٹکٹ تو شام کی بس کا ہے۔ اس لحجے ، اس شگفتگی اور عجزانہ صحبت میں کسی چیز پر ٖغور ہی نہیں کرپاۓ تھے۔

خیر کوئی نہیں ہوتا ہے، چلتا ہے ، دنیا ہے ۔ اس ہی آس میں کے شاید پھر دنیا کے کسی کونے میں وہ مسکراہٹ ، جس کا زکر ابھی لبوں کے مسکرانے کا باعث بن جاتا ہے، پھر دیکھنے کو مل جائے۔ بظاہر تو بہت ہی معمولی ملاقات تھی مگر زندگی کے سفر میں ایک خاص یاد اور ملاقات کی چھاپ چھوڑ گئی تھی۔

Advertisements

ایک درد یہ بھی۔۔

بہت عرصے بعد احساس ہوا کے ہمارا احساس ابھی مرا نہیں ہے، زیادہ بہادری، شوخے پن یا اور کسی وجہ سے اُس کو کہیں دفن کر آئے تھے یہ احساس کافی سالوں بعد ہو رہا تھا ، اتنے سالوں بعد کے سمجھ بھی نہیں آرہا تھا کے اس احساس کو کیا نام دیں یا اس احساس کو بولتے کیا ہیں ، کچھ دماغ پہ زور ڈالنا چاہا تو اُس نے فوراََ ہی معذرت کرلی ، جیسے کسی بہت ہی قریبی نے اہم ضرورت میں ساتھ چھوڑ دیا ہو۔ خیر لمحوں بعد ہی اسکو ہماری حالتِ زار پہ ترس آگیا تھا اور کسی سچے مخلص کی طرح ہماری مدد کو حاضر تھا۔ گزشتہ احساسات کو ناپ تول کے ہمیں یہ اندیشہ دیا کے کہیں یہ درد تو نہیں ، درد ؟

درد یہ درد کیا ہوتا ہے ، اس کے لفظی معنٰی کیا ہوتے ہیں اور اس کو واضع کیسے کرتے ہیں؟ ، ایسے کئی سوال لمحہ بہ لمحہ ہمارے دماغ میں جنم لے رہے تھے۔ دماغ جو کے اپنی معمول کی رفتار سے دوڑنا شروع کرچکا تھا کچھ ہماری رہنمائی کے قابل ہوگیا تھا۔ جو واقع دماغ کو مفلوج کردے وہ درد ہی تو دے رہا ہے ہاں ۔۔ ، شاید نہیں ، بلکہ بلکل ہاں یہی تو درد ہے۔ اب تک صرف جسمانی نقصان اور جسمانی تکلیف کو ہی درد تسلیم کر رہے تھے مگر دماغ کا کیا جو دن بھر درد پہ درد سہے جا رہا ہوتا ہے ، خون کے گھونٹ پیے جا رہا ہوتا ہے۔ آج کچھ ایسا ہی دماغ کو مفلوج کردینے والا واقع رونما ہوا جس کے بعد آنے والے جھٹکے ابھی بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں ، دل ۔۔۔،  نہیں دل نہیں صرف دماغ ہمارا صرف وہی کام کرتا ہے۔ ہمارا موبائل ، اکلوتا تو خیراب نہیں تھا ، مگر دل و جان سے عزیز تھا۔ شاید کسے دوست وغیرہ  سے بھی بچھڑنے پر وہ درد محسوس نہیں ہوتا جو اپنے نیکسز 5 ایکس کے چلے جانے پر محسوس کیا، 10 منٹ کے لیے تو سمجھ ہی نہیں آیا کے  کیا دنیا ابھی بھی بقی ہے ؟ کل کا سورج طلوح ہوگا بھی یا نہیں کچھ ایسے ہی احساسات کے ساتھ اِس آس میں ہیں کے شاید کراچی کی موبائل مارکیٹ کوئی کارنامہ انجام دے اور ہمیں اپنے موبائل کا ساتھ نصیب ہو، آمین۔

بناؤ اور بگاڑ

ان الفاظوں کو ترتیب دینے کا مقصد کسی کی دل آزاری ، حوصلہ شکنی، کسی نئ بحث کا آغاز یا کسی بھی فرد،تنظیم یا جماعت  کو تنقید کی بھینٹ چڑھانا ہرگز نہیں ہے ،بلکہ اُس نقطہ نظر اور سوچنے کے زاویے کا پرچار کرنا ہے جس سے آج برِصغیر کے لوگ خاصے دور چلے گۓ ہیں۔ جی آپنے سہی پڑھا برِصغیر کیونکہ ہمیں پوری دنیا کی اصلاح کے لیے بھیجا گیا ہے نہ کہ صرف پاکستان کے لیے۔

اس بات کو سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ اس دنیا کو جس خدا نے تخلیق کیا ہے ، اِس کے آسمانوں کو گرنے سے روکے رکھا ہے، اِن سمندروں کو زمینوں پہ چڑھ  دوڑنے سی باز رکھا ہے ، اِس زمین میں طرح طرح کے خزانے آگائیں بھی ہیں اور دفنائیں بھی ہیں ان پہاڑوں ، سورج ، چاند و ستاروں کو اپنے تابع رکھا ہے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے اس بچھائے ہوئے اَرض پہ کچھ بھی اپنی مرضی کے منفی ھونے دے۔

جس طرح سے صبح سورج کا مشرق سے نکل کر مغرب میں غروب ہوجانا، زمین کا ایک ہی زاویے اور رفتار سی سورج کے گرد گھومنا ، حلانکہ پوری نظامِ کائنات ایک مکمل منصوبہ بندی اور قانونِ خداوندی کے تہت چل رہا اور خدا آپنے قانون میں تبدیلی بہت کم کرتا ہے۔ اور اسکا ایک قانون اور اصول یہ ہے کہ وہ بناؤ کو پسند کرتا ہے اور بگاڑ کو پسند نہیں کرتا۔

آج تک اس زمین پر جتنی بھی قوموں کو حکمرانی نصیب ہوئی ہے ،انہوں نے یا تو اس دنیا میں کو بنایا یا اس دنیا کے لیے بگاڑ کا سبب بنے۔ خدا نے آدم علیہہ سلام سے اب تک اپنی زمین پر کبھی ایسی قوم، بادشاہ یا حکمرانوں کو برداشت نہیں کیا جو بناؤ سی زیادہ بگاڑ کا سبب بنے۔ فرِعون کو بادشاہت اپنے عدل و انصاف کی وجہ سے ملی رہی ، وہ تو جب اسنے خدائی کا دعوا کیا تب خدا نے اسکو نِیست و نابود فرمایا ، مسلمانوں نے بھی تب تک دنیا پے حکمرانی کری جب تک بگاڑ کی روش اختیار نہ کرلی پھر مغلوں نے بھی تب تک عیاشی کی جب تک برَصغیر کی خدمت کرتے رہے، جہاں خدمت رکی وہاں خدا نے کچھ مصیبتوں کی شکل میں موقعے فراہم کیے کہ باز رہو پھر بلاآخر انگریزوں کو لاکر بیٹھا دیا اور ان سے بناؤ کے کام لیے۔ نسل ، رنگ ، غصے کو اگر ایک طرف رکھ دیں اور اپنے دماغوں پہ زور ڈالیں تو اس بات کو رَد کرنا انتہائی اہمقانہ ہوگا کہ انگریزوں نے پوری دنیا میں کوئی سوارنے اور سدھارنے کے کام نہیں کرے، انگریزوں نے دنیا کے جن ملکوں میں حکمرانی کری وہاں اتنا کام کیا کے وہاں کے مقامی حکمران بھی پورے مخلص دل و دماغ کے ساتھ نہیں کرسکتے تھے، پھر انگریزوں کے ساتھ بھی خدا نے دو سو سال بعد انصاف کا معاملہ فرمایا جب انہوں نے بگاڑ کی روش کو اپنا لیا۔ اصول صاف ہیں کے دنیا کا انتظام ٹھیک کیا جائے، اسے زیادہ سے زیادہ سنوارا جائے ، اس کے دیے ہوے زرائع اور بخشی ہوئی قوتوں اور قابلیتوں کو زیادہ سے زیادہ بہتر طریقے سے اس استعمال کیا جائے۔

خدا ، دنیا اور دنیا کی بادشاہت اسی طرح ہے جیسے کوئی مالک اپنے باغ کے لیے مالی کا انتخاب کرتا ہے۔ جب تک مالی باغ کی خدمت اور بناؤ سنگھار میں لگا رہتا ہے اپنی ساری محنت اور قوّت باغ کی ترقی اور حسن کو بڑھانے میں خرچ کرتا رہتا ہے مالک اُس کو اسکے عہدے پہ فائز رکھتے ہے۔ مگر جہاں وہ سستی ، بے پرواہی اور ہٹ دھرمی کی روش اختیار کرلیتا ہے تو مالک اسکو کسی بھی مزہبی سفارش کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اس باغ کے اعلا عہدوں سے بے دخل کرکے ان پر دوسرے لوگ فائز کردیتا ہے۔  کچھ قومیں اس بات کو اپنا حق تصوّر کر رہی ہیں کے ہمیں پھر سے اس باغ کی حکمرانی ملے گی کیونکہ ہمارے باپ دادا نے اس باغ کی خوب خدمت کری تھی یہ دو پودے میرے آبا حضور کے لگائے ہوئے ہیں ، وہ والا درخت میرے چاچا نے لگایا تھا ، یہ ایک خام خیالی ہے۔ انہوں نے کچھ بھی کیا ہو مالک کا اصول یہ ہے کہ ہم آج کیا کرسکتے ہیں ، اس باغ کی حکمرانی صرف ان کو ملتی ہے جو کے مخلصانہ دل و دماغ کے ساتھ اس کی خدمت اور ترقی کا عزم رکھتے ہیں۔ یقین نہیں آتا تو وہ چھوٹی آنکھوں والے زیادہ دور نہیں ہیں۔

یہ ساری باتیں کرنے کا مقصد کسی کو ناامید کرنا ہرگز نہیں ہے، نہ تو میں ناامید ہوں اور نہ ہی ناامید کرنا چاہتا ہوں۔ یہ تحریر تو وہ بادشاہی سوچ کے خاتمے اور اصلاح کی طرف محنت کی ترغیب دینے کے لیے ترتیب دی گئی ہے۔

  بگاڑ کے عناصر :۔

خدا کا خوف دلوں سے ختم ہوجانا ، جو کے برائی کی جڑ ہے

خدا کی ہدایت سے بےنیازی

خود غرضی

جمود یا بے راہ روی

اصلاح کے عناصر :۔

خدا کا خوف

خدائی ہدایت کی پیروی

نظامِ انسانیت

عملِ صالح

اگر ہم سب ایک نیک انسانوں کی تنظیم کی طرح بگاڑ کے اسباب کو روکنے اور بناؤ کی صورتوں کو عمل میں لانے کے لیے پیہم جدوجہد کریں جو کے باشندوں کو راہِ راست پہ لاسکے تو وہ خدا بے انصاف نہیں ہے جو اس دینا کی زمہ داری کسی نالائق کو سونپ دے، مگر اگر اس کے برعکس ہوا تو شائد ہم اندازہ بھی نہیں لگا سکتے یہاں رہنے والوں کیا انجام ہوگا۔

پہلا سفر (حصہ دوم)

آدھی رات ہونے کو ہے اور ہم سفر پہ رواں دواں ہیں آج گرمی زیادہ تھی یا نہیں معلوم نہیں مگر ہزار روپے کا ہم نے پانی ضرور پی لیا تھا، ڈیفنس کے سرکل انچارج بیچارے اپنا سب کچھ لٹا بیٹھے تھے ، آج لٌٹنے والوں کی تو ایک لمبی فہرست ہے تنویر بھائی اور عمیر بھائی کی کرپٹ گورنمنٹ نے جنگل کا راج نافض کر رکھا تھا، پہلا نمبر میرے ہیڈ فون کا تھا جس پہ قبضہ حسّن بھائی نے کیا تھا اور اُسی وقت سے میرے نشانے پہ آگئے تھے ، حزیفہ وکیل بھائی عرف چیکو نے بڑی چالاکی سی اپنی جگہ محفوظ کری اور اپنے اسم گرامی کے ساتھ انصاف کرتے ہوے فری لانس وکیل بن گئے۔ حد تو یہ ہوئی جب گورنمنٹ نے قبضہ مافیا حسّن بھائی کو ہی اپنا وکیل مقرر کردیا۔

خیر مقدمہ شروع ہوا گورنمنٹ کے وکیل نے تابڑ توڑ حملے شروع کردیے  مجھے چیکو وکیل کی مدد لینے کا مشوارہ دیا جانے لگا مگر میں نے پہلے سے بِکے ہوے چیکو کی مدد لینے سی سفا انکار کردیا اور اپنا مقدمہ خود لڑنے کی درخواست دی جو کہ مسترد کردی گئی۔ اس کے بعد ہونا کیا تھا ، وہی جو کے ہر پاکستانی کو اپنا حق لینے کے لیے کرنا چاہیے مگر کرتا نہیں ہے ، ہم نے حسّن بھائی کا وہ رجسٹر جو کے انہوں نے اپنی سکریٹریوں سے لکھوایا تھا بہت دانائی سے اپنے قبضے میں لے لیا اور کھڑکی سے باہر لٹکا دیا ، اب حسّن بھائی تھے اور انکا چہرہ جس پہ بارہ بجتے ہوئے صاف دیکھے جا سکتے تھے، اب یہ سنوائی ہمارے خانے میں آگئی تھی ، مزہ تو جب آیا جب خود گورنمنٹ نے بھی حسّن بھائی کا ساتھ چھوڑ دیا، گورنمنٹ خوب پاکستانی گورنمنٹ ہونے کا ثبوت دے رہی تھی اور حسّن بھائی کو میرے ہیڈ فون ہتھیانے کی صحیح سزا مل رہی تھی۔ خیر بہت دلائل اور جملے بازیوں کے بعد گورنمنٹ نے حسّن بھائی کی بات سنّے کی حامی اس شرط پہ بھری کہ  وہ لاہور میں ایک وقت کی میزبانی کریں گے مگر ، مگر ایک بات تو بھول ہی گئے کے حسّن بھائی  کے دل و جان سے زیادہ عزیز رجسٹر میرے پاس ھے جس کا گورنمنٹ سے کوئی تعلق نہیں ۔ گورنمنٹ نے پھر گیم کردیا تھا۔ اب میرا مطالبہ یہ تھا کے میرے ہیڈفون واپس کیے جائیں ورنہ رجسٹر باہر جا رہا ہے ، جو کے ایک دو بار گرتے گرتے بھی بچ چکا تھا اور حسّن بھائی کا دل منہ میں گردے ہلک میں اور سانسیں اوپّر نیچے ہورہی تھیں ، خیر مجھے میرا ہیڈ فون ملا حسّن بھائی کو انکا رجسٹر اور گورنمنٹ کو کھاپے کی اٌمیدیں۔

ہمارا خیال یہ تھا کے اب کچھ سکون ملے گا حسّن بھائی آپنی پڑھائی میں مشغول ہو گئے تھے تنیور بھائی اور عمیر بھائی بھی لیٹ گئے تھے تو ہم ونڈو سائید پہ بیٹھ گئے اور باہر سندھ کے وہ کھیت جن کو کسی خاطر میں نہیں لایا جاتا اور گرین پنجاب کا نعرہ لگایا جاتا ہے دیکھتے ہوئے اپنے دیگر نظریات پہ کام کرنے لگے ، اتنے میں شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار چیکو نے پھر ہیڈ فون پہ ڈھابہ بولنا چاہا  ، مگر اس دفعہ ہم محفوظ رہے اور بقی کا سفر چیکو پہ نظر رکھتے ہوے گزرا۔ ہیڈ فون کا معاملہ یہ تھا کے یہ سوچنے میں مدد دیتا ہے اور ہماری واحد کمزوری تھی۔ ابھی روہڑی نہیں آیا تھا اور اتنی ساری کارگزاری ہوچکی تھی۔ اس سارے معاملے میں ہم سے ٹرین کے وہ دیدہ زیب مناظر جن کی ہم گھر سے تمنا کرکے نکلے تھے چھوٹ چٌکے تھے۔

  ان سارے مستی مذاق کے بعد کھانے کا وقفہ شروع ہوا چاہتا تھا، روہڑی سی  پہلے نواب شاہ پہ آئس کریم کھانے کا مزہ ہی الگ تھا پھر اس کے بعد کسی قسم کی تفریح کی تاب نہ لاتے ہوئے ہم سوگئے اور جب ان آنکھ کھلی تو روہڑی آچکا تھا ، دماغ نے جب کام کرنا شروع کیا جب یہ پتہ چلا کے سکھر سے عزیر بھائی نے کھانا بھجوایا ہے ، پہلے تو دل مایوس ہوا کے کسی مشہور تھیلے کی بریانی ہی ہوگی مگر دریافت کرنے کے بعد دل و دماغ و بماع پیٹ کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا کیوںکہ عزیر بھائی نے اس کھانے میں ہمارے لیے خصوصی ڈش قورمے کا اہتمام کیا تھا قورمے کے ساتھ ساتھ بریانی اور چھولے کا سالن بھی تھا جو ہماری توجّہ کا مرکز نہیں تھا۔ اسٹیشن پہ اترے ، ایک تو گرمی انتہا کی اوپر سے کراچی سے بھی زیادہ کالا پانی۔ ہاتھ منہ دھونے کا خیال فورن اپنے دماغ سے ترک کیا اور ہاتھ صاف کرکے کھانے کے ساتھ انصاف کرنے بیٹھ گئے۔ سب کو لگ رہا تھا گرمی کی شدّت کی وجہ سی شاید کھانا کھانے میں کوئی کمی بیشی ہو جائے مگر اللہ بھلا کرے عزیر بھائی کا جن کی وجہ سے اتنا مزےدار کھانا نوش فرما رہے تھے۔ اب سونے کا وقت تھا اور سب نے پیٹ بھر کے خوب نیند پوری کری اور اب سب اپنے اپنے مشاغل میں مصروف تھے کیونکہ ہم کھڑکی کے ساتھ ہی بیٹھے تھے تو ہم نے کھیتوں پہ اپنی توجہ مرکوز کرلی اور گانے سننے میں مشغول ہوگیا ، سوچا کے کتنے خوبصورت ہیں گندم کے یہ سنہرے سنہرے کھیت جو کے تاحدنظر تک دیکھے جاسکتے تھے۔ سونے کی مانند یہ کھیت شروع میں دیکھنے میں تو انتہائی پرکشش لگ رہے تھے مگر ہم یہ بھول گئے تھے کے سنہری گندم کی فصل کو ہی کاتا جاتا ہے اس میں سے اناج الگ کرنے کا عمل شروع ہوتا ہے ، تھوڑا آگے چلنے کے بعد اس عمل کا بھی آغاز ہوچکا تھا اور اس میں سے نکالنے والا بھوسا ہمیں پریشان کرنے لگ گیا تھا مگر ابھی اتنے برے حالات نہیں ہوئے تھے کے بہاولپورآگیا۔ یہ شہر بھی ترقی کررہا ہے، سڑکیں، پل دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اسٹیشن پہ عمیر بھائی نے فون پر اپنا انٹرویو دیا ، آنکھیں آدھی بند، قمیض کے دو بٹن کھلے ہوئے عمیر بھائی لڑکھڑاتے ہوئے، یہ بھی اپنی قسم کا ایک انوکھا انڑویو دیکھا۔

بہاولپور گزرنے کی دیر تھی کے کھیتوں کو اناج میں تبدیل کرنے کا عمل دوبارہ ہمارے ارد گرد  شروع ہوچکا تھا اور اسکا سارا بھوسا ہم کھا رہے تھے۔ آنکھ ، ناک ، کان ، منہ میں تو بھوسا جا ہی رہا تھا امیرِ سفر نے ایک اور فرمائش کردی کے جو پریزنٹیشن کل دیکھانی ہے اس کی تیاری کرلیں۔ ابھی تک ہم بھوسا کھا رہے تھے یہ تو منظور تھا مگر ہمارے بیگم کو اس بھوسے سے کوئی تکلیف ہو یہ منظور نہ تھا۔ تو کرنا کیا تھا پورے ڈبہ کی کھڑکیاں بند کروادیں۔ یہ کوئی مشکل کام نہ تھا بس جو کھڑکی کھلی ہو اس کے پاس بیٹھے شخص کو گھور کر دیکھو اور کھڑکی بند کردو۔ کسی بیچارے کی ہمت بھی نہیں ہوئی منع کرنے کی ، بیگم کو مشکلات پیش آرہی تھیں اور یہ ہمیں کسی صورت برداشت نہ تھا، یہاں ہماری بیگم سے مراد ہمارا لیپ ٹوپ ہے۔ تیاری تو ایک بہانہ تھا، اصل میں تو فلم دیکھنی تھی اور وہ لگ گئی تھی، جس کا منظر ہماری فیس بک کی تصویر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ فلم دیکھتے دیکھتے ملتان آگیا۔ ملتان کی سب سے بہترین بات وہاں کا پانی ، اتنا صاف کے ہاتھ میں پانی بھرنے کے بعد آپ اپنے ہاتھ کی لکیریں دیکھ سکتے تھے۔ ہاتھ منہ دھویا اور پھر ایک آئس کریم کھائی اور چیکو کو بیت الخلا بھیج کر اپنی جگہ پہ اکر بیٹھ گئے، ٹرین ابھی چلی ہی تھی کہ شورمچھ  گیا کے کوئی پھنس گیا ہے باتھ روم میں گیٹ کھولو گیٹ کھولو۔ مجھے چیکو کا خیال آیا جا کر لوگوں کو ہتایا اور گیٹ کھولنے کی کوشش کرنے لگا ہی تھا کے کیا دیکھتا ہوں بدبخت سیدھے ہاتھ پہ کھڑا ہنس رہا ہے۔ بعد میں پتہ چلا کے کوئی انکل پنھس گئے ہیں اور اندر سے انکو سانس نہیں آرہی ہے ، میں نے سمجھانے کی بہت کوشش کی کے صبر رکھیں ورنہ سانس لینے میں اور مسلہ ہوگا مگر اتنی دیر میں بہت مجمع اکھتا ہو چکا تھا اور اب ہر کوئی اپنی اپنی تدابیریں لگا رہا تھا، جب کچھ کام نہ آیا تو ایک انکل کہتے ہیں کے اندر والا بندا پریشان ہو رہا ہے اس سے کم سے کم  باتیں کرو، میں نے کہا ہاں دو کا پہاڑا پوچھ لو اس سے، بس یہ کہنا تھا کے وہاں ایک سناتا سا چھا گیا اور میں اپنی جگہ پہ آگیا اور بقی کا ملتان انکل کو نکالتے نکالتے گزر گیا۔

اب ٹرین نے اپنا مردودپن دکھانا شروع کردیا ہے ، دو تین مشہور اسٹیشن بھی نکل چکے ہیں مگر ابھی بھی کافی وقت رہتا ہے، آدہی رات ہونے کو ہے۔ اور بھی لکھنا ہے مگر ٹرین سے باہر کوئی دلچسپ شہ نظر آرہی ہے۔ جب تک کے لیے وقفہ۔۔۔۔

پہلا سفر( حصہ اوّل )

زندگی بھی ایک عجیب شہ کا نام ھے، کس کو کہاں کب کیسے بدل دے کچھ نہیں بتا سکتے۔ کس نے سوچھا تھا کہ ایک لڑکا جس کے کالج کے دوستوں نے اُسکا گھر تک نہیں دیکھا تھا ، کالج تک اُسکا کوئی ایسا دوست نہیں تھا جس کے ساتھ وہ حیدرآباد سے کراچی تک کا سفر طے کرسکے ، آج کراچی سے لاہور کے سفر پہ گامزن ہے۔ ایسے ساتھیوں کے ساتھ جن کو وہ صرف چھ ماہ سے جانتا ہے یہاں یہ بات لکھنا اس لیے ضروری سمجھتا ہوں کیوںکہ سفر میں آپ یہ دھیان رکھیں کے یہ ایک بلکل ہی نیا امتحان ہے۔

آغازِ دن عفّان بھائی کی کال سے ہوا، نصف بند آنکھوں سی کال کو موصول کرتے ہوئے عفّان بھائی کو یہ یقین دہانی کروائی کہ پڑھائی کی وجوہات کچھ اس طرح سے ہیں کہ لاہور جانا کسی صورت مناسب نہیں۔ دن کے گزرنے کے ساتھ ساتھ جب یہ بھید مجھ پہ واضع ہوا کہ میرے لیے دو افرادِ محترم قربانی دیے بیٹھے ہیں اور پڑھائی کی مجبوریاں بھی سنبھالی جا سکتی ہیں تب دل میں ایک عجیب سی خوشی نے جنم لیا اور اپنے آپ سے سوال کیا کے کیا میں بھی لاہور جا سکتا ھوں؟ ۔ جواب ہاں میں تھا ، دماغ و دل یہ ٹاسک قبول کرچکے تھے ۔ حال ہی میں حیدرآباد سے واپسی پہ اس خیال نے میرے ذہن میں جنم لیا تھا کے یار ٹرین کے اصل سفر کا مزہ تو لمبے روٹ پر ہے اور لو آج ہم موجود ہیں اُسی سفر پہ جس کا تزکرہ صرف اپنے آپ سے کیا تھا، بیشک وہ ذات دلوں کے حال جانتی ہے اور ایسے غیب سی نوازتی ہے جہاں ہمارا گمان بھی نہیں ہوتا۔

یونیورسٹی کے بعد چار بجے آفس میں ملنے کا پروگرام ترتیب پایا تھا ، ہم نے بھی کراچی والے ہونے کا ثبوت دیتے ہوے ساڑھے چار بجے آفس میں قدم رکھا اور حذیفہ بھائی کے ساتھ لمبے کرنے میں مصروفِ عمل ہوگئے۔ عمیر بھائی اور حسّن بھائی کی آمد نے کہانی کو دل چسپ اس وقت بنایا جب ہم سے یہ سوال کیا گیا کہ بھائی روانگی کب اور کیسے ہے پہلے تو دل تو زور سے حماس ملک والا قہقہا مارنا کا کیا لیکن پھر آفس کے تقدس کا خیال کیا اور اپنے آپ کو کسی بھی قسم کی ٹھنڈی کرنے سے پرہیز کیا۔ تھوڑا ہاتھ پاؤں مارنے کے بعد قاضی بھائی نے مشکلات کو دور کیا اور ٹرین کی ٹکٹوں کا انتظام  شالیمار لوّر اے سی میں کروا دیا

ان ساری ہستیوں سے تعارف نہ کروانے کی وجہ یہ ہے کہ الفاظوں کا کافی کثیر مجموعہ درکار ہے اس کام کو انجام دینے کے لیے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ لمبی نہ کی جائے۔ آفس سے پانچ بندے اؤبر میں شام کے وقت روانہ ہوئے۔  یہ وہ پہلا اتفاق تھا جب سوچا کے شاید پیدل ہی اسٹیشن چلے جاتے تو زیادہ بہتر تھا کیونکہ ڈرائیور اور اسکے سوالات یا خدا۔ سب سے زیادہ مزیدار سوال قاضی بھائی سے ہوا۔ “یہ آپ لوگ سب ایک جیسی شکل کے مالک کیوں ہوتے ہیں”،  اب اسکا جواب قاضی بھائی کے پاس تو نہیں تھا مگر ہم چار لوگوں کے پاس ایک سوال ضرور تھا کے یہ بندا کون ہے؟ آئی ایس آئی، ایم آئی یا کوئی اور ۔ پھر رات تک قاضی بھائی کے ساتھ لمبی اور کچھ یادیں تازہ کرنے دوسرے آفس چلے گئے وہاں اس بات سے بھی پردہ اٹھایا گیا کہ جن موصوف کو ٹکٹ لینے بھیجا تھا وہ محترم اکانومی کا ٹکٹ لے ائے ہیں اور ٹرین کل صبح چھ بجے کی ہے، اتنا فارغ اپنے اپ کو سالوں سے محسوس نہیں کیا تھا، اب ہر کام ہم دھیرے دھیرے کر رہے تھے، کیونکہ وقت تو اب ہمارے باپ کا غلام بن گیا تھا۔ اس کے بعد اپنے آپ کو تنویر بھائی کی مہمان نوازی میں پیش کردیا کہانی کے اتنے تیز گزرنے کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمیں خود نہیں پتہ چل رہا تھا کے کیا چل رہا ہے۔ وقت گزرنے کی اصل وجہ قاضی بھائی کی باتیں تھیں، آپس کا شغل یا رات کی مست نیند ابھی تک واضح نہیں ہے۔ صبح اسٹیشن کے باہر ناشتے کے بعد چھ بجے آغازِ سفر ہوا۔ ہم، عمیر بھائی، تنور بھائی ،حسّن بھائی ،حذیفہ عرف چیکو، اور سفید شلوار قمیض میں ملبوس آنکل ٹرین میں سفر کی نیّت کرچکے تھے ۔

سفر کے آغاز سے ہی کارستانیاں شروع ہوگئی ہیں، میرا ٹکٹ چھُپا کرٹکٹ چیکر کو گمراہ کرنے کی سازش کی گئی وہ تو بھلا ہو ہماری گہری اضطراری کا کے وہ کوشش بھی ناکام کری اور اب تک بھی بچے ہوے ہیں۔ اب ٹرین حیدرآباد کی طرف رواں دواں ہے فی الحال سوجانے میں ہی بھلائی ہے۔

بقہ حصہ نیند مکمل ہونے کے بعد۔۔۔۔۔

بچّوں کی اہمیت

جب آج کے اچھے پڑھے لکھے ماں باپ سے پوچھا جاتا ہے کہ اپکے گھر سب میں زیادہ اہمیت کا حامل کون ہے تو عام طور پہ جواب “ننّھے منّے معصوم بچّے ہی ہوتا ہے”, وجہ کسی کو نہیں معلوم ۔ کبھی تو والدین اس سوال پہ جزباتی ھوجاتے ھیں اور ہمیں تنقید کا سامنا کرنا پرتا ہے کہ اپنے یہ سوال پوچھا کیسے, شرم نہیں آتی اپکو یہ سوال پوچھتے ہوے ۔ اسی تصوّر کو دماغ میں رکھتے ہوئے اس خاکہ کے ذریعہ بہت سارے نکات کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے۔

ہمارا سوال یہ ہے کہ کس نے ان چھوٹے جانداروں کو یہ درجہ دیا  ہے یا ایسی کونسی وجوہات ہیں جس کی وجہ سے انکو ایسے اعزازوں اور خدمات سے نوازہ جاتا ہے۔

اگر اپنے دماغوں کو وسیع کرنے کی کوشش کرتے ہوے (مانتا ہوں مشکل ہے) ان نکات پہ غور کریں کہ آج اِنکے بچّے جس بھی مقام پہ ھیں صرف اور صرف اِن ہی کی بدولت ہیں۔ بچّوں کا وجود ہی اِنکے والدین کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ رہن سہن ، یہ اچھے سے اچھے کپڑے ، یہ پڑھائیاں ، ہر قسم کہ لذیذ کھانے، گھر والدین کی ہی وجہ سے ہیں۔ پھر بھی والدین اپنے چھوٹے آقائوں کی اس طرح خدمت کرتے ھیں جیسے کبھی بھی اِن کو سزاے موت سنائی جا سکتی ہے ورنہ کوئی نہ کوئی سزا کے تو ضرور مرتکب ہوں گے۔ یہاں خدمت سے مُراد بچوں کی ضرویات پوری کرنا ہرگز نہیں ہے۔ یہاں خدمت کو بچّوں کا بِلا وجہ وکیل بننے ، اُن کی ناجائز باتوں کو صحیح ثابت کرنے، اُن کےغصّوں کو برداشت کرنے ، غصوں کے نشاندہی کرنے اور اُن کے غلط حرکتوں کو مزاق بنانے سے تشبیع دیا جارہا ہے۔ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ والدین کا پیار بہت عجیب شہ ہے صحیع مقدار میں ہو تو اِقبال ، جوہَر اورعِمران پرورش پاتے ہیں ورنہ بچّے تباہ و برباد ہوجاتے ہیں۔

  بچّے جتنے ہی بڑے یا چھوٹے ہوجائیں ، جتنے پڑھے لکھے یا ان پڑھ ہوں، جتنے کامیاب یا ناکام رہیں کسی بھی طرح اپنے ماں باپ سے زیادہ اہمیت کے حامل نہیں ہوسکتے۔

فوج میں سب سے زیادہ عزت اور اہمیت آفیسر کی ہوتی ہے ، اس طرح کلاس میں بھی استاد کی عزت کا کوئی ثانی نہیں ہوتا ، جو اہمیت ڈاکٹر کو حاصل ہے وہ کسی اور کو نہیں اور کمپنی میں کسی کی مجال نہیں ہوتی کے مالک کو کچھ کہ سکے۔ یہی عزت والدین کی بھی ہوتی ہے، چاہیے جو کچھ بھی بچّوں کی عمر ہو۔

والدین کی اوّل فکر یہ نہیں ہونی چاہیے کے اُن کے بچے اپنے اسکولوں میں اے گریڈ حاصل کریں ، کھیلوں میں سب کو پیچھے چھوڑ دیں یا بہت ہی اعلا درجے کے آفسر ، سرجن بن جائیں بلکہ ہمیں تو ایک ایسی نسل تشکیل دینی ہے جو اپنے الّلہ رسول ﷺ کو راضی کرے ، حقوق الّلہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد بھی خوش اسلوبی سے انجام دیں اور معاشرے، برادری اور ثقافت کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چل سکیں۔

“ہمارا بچا اِس گھر کا سب سی زیادہ اہم فرد ہے۔”

سوچیں ! اپنے بچوں کو اوّل اور اہم بنانے کے لیے کیا کیا کھو رہے ہیں ۔

 John Rosemond کی تحقیق کے کچھ نکات پر نظر

Myths behind Apple Logo

Apple Inc. logo story and Myths about it.

so,

Myth 1 : “Apple Computes Inc. logo was inspired by Isaac Newton.” 

S8l2x.jpg

Myth 2 : “Apple adopted this logo because they wanted to pay tribute to father of Modern Computers and great Mathematician Alan Turing , who broke Enigma code in WWII and won a war for England and Allies.
He was a gay and did suicide by eating Apple with a cyanide poison”.

Logo 2

Apple_Computer_Logo_rainbow.svg.png

Myth 3 : “Bitten Apple portrays the story of Adam and Eve. Apple represents the lust for knowledge and is considered  as a fruit of knowledge because of Adam & Eve and obviously Isaac Newton”.

True Story

Steve Jobs was working in McIntosh Apple orchard. He named this company on his favorite fruit. When Jobs uttered the name ‘Apple’, Wozniak laughed and said,

‘It’s a computer company, not a fruit store.’

In a press conference in 1981, Jobs was asked why he named the company ‘Apple’.

“I like apples and love to eat them. But the main idea behind the apple was to bring simplicity to the people, in the most sophisticated way and that was it, nothing else”.

First Logo “Newton Cresent Logo” was made by  Ronald Wayne in 1976, who is the third co-founder of the Apple Company, designed its first logo.

After the Newton Crest, Jobs decided to explore something new, something different, for the logo. Hence, he hired Rob Janoff as the designer to come up with something modern.

Jobs and Rob Janoff was really inspired by hippie culture of that time and Jobs wanted every one to think different(ly).

“He wanted the green on the top because there was a leaf there”, explained Janoff.

According to Janoff, the bite on the Apple logo was to really let people know that it was an apple and not a cherry. The bite also played along with the computer buffs at that time because it had a similar sound off to the word ‘byte’, a unit of digital information in computing and telecommunication.

apple_logo.png

then Apple Inc. moved to different version of logo because Rob Janoff logo was not fit well with metal casing of new Apple products. This logo was active 1998-till date.

Stories are cool and simple but we made them fabricated and then rumors and falsehood takes place. 

Jobs said 

steve-jobs-isad.jpg

Hope you enjoyed the blog .. 🙂