پہلا سفر (حصہ دوم)

آدھی رات ہونے کو ہے اور ہم سفر پہ رواں دواں ہیں آج گرمی زیادہ تھی یا نہیں معلوم نہیں مگر ہزار روپے کا ہم نے پانی ضرور پی لیا تھا، ڈیفنس کے سرکل انچارج بیچارے اپنا سب کچھ لٹا بیٹھے تھے ، آج لٌٹنے والوں کی تو ایک لمبی فہرست ہے تنویر بھائی اور عمیر بھائی کی کرپٹ گورنمنٹ نے جنگل کا راج نافض کر رکھا تھا، پہلا نمبر میرے ہیڈ فون کا تھا جس پہ قبضہ حسّن بھائی نے کیا تھا اور اُسی وقت سے میرے نشانے پہ آگئے تھے ، حزیفہ وکیل بھائی عرف چیکو نے بڑی چالاکی سی اپنی جگہ محفوظ کری اور اپنے اسم گرامی کے ساتھ انصاف کرتے ہوے فری لانس وکیل بن گئے۔ حد تو یہ ہوئی جب گورنمنٹ نے قبضہ مافیا حسّن بھائی کو ہی اپنا وکیل مقرر کردیا۔

خیر مقدمہ شروع ہوا گورنمنٹ کے وکیل نے تابڑ توڑ حملے شروع کردیے  مجھے چیکو وکیل کی مدد لینے کا مشوارہ دیا جانے لگا مگر میں نے پہلے سے بِکے ہوے چیکو کی مدد لینے سی سفا انکار کردیا اور اپنا مقدمہ خود لڑنے کی درخواست دی جو کہ مسترد کردی گئی۔ اس کے بعد ہونا کیا تھا ، وہی جو کے ہر پاکستانی کو اپنا حق لینے کے لیے کرنا چاہیے مگر کرتا نہیں ہے ، ہم نے حسّن بھائی کا وہ رجسٹر جو کے انہوں نے اپنی سکریٹریوں سے لکھوایا تھا بہت دانائی سے اپنے قبضے میں لے لیا اور کھڑکی سے باہر لٹکا دیا ، اب حسّن بھائی تھے اور انکا چہرہ جس پہ بارہ بجتے ہوئے صاف دیکھے جا سکتے تھے، اب یہ سنوائی ہمارے خانے میں آگئی تھی ، مزہ تو جب آیا جب خود گورنمنٹ نے بھی حسّن بھائی کا ساتھ چھوڑ دیا، گورنمنٹ خوب پاکستانی گورنمنٹ ہونے کا ثبوت دے رہی تھی اور حسّن بھائی کو میرے ہیڈ فون ہتھیانے کی صحیح سزا مل رہی تھی۔ خیر بہت دلائل اور جملے بازیوں کے بعد گورنمنٹ نے حسّن بھائی کی بات سنّے کی حامی اس شرط پہ بھری کہ  وہ لاہور میں ایک وقت کی میزبانی کریں گے مگر ، مگر ایک بات تو بھول ہی گئے کے حسّن بھائی  کے دل و جان سے زیادہ عزیز رجسٹر میرے پاس ھے جس کا گورنمنٹ سے کوئی تعلق نہیں ۔ گورنمنٹ نے پھر گیم کردیا تھا۔ اب میرا مطالبہ یہ تھا کے میرے ہیڈفون واپس کیے جائیں ورنہ رجسٹر باہر جا رہا ہے ، جو کے ایک دو بار گرتے گرتے بھی بچ چکا تھا اور حسّن بھائی کا دل منہ میں گردے ہلک میں اور سانسیں اوپّر نیچے ہورہی تھیں ، خیر مجھے میرا ہیڈ فون ملا حسّن بھائی کو انکا رجسٹر اور گورنمنٹ کو کھاپے کی اٌمیدیں۔

ہمارا خیال یہ تھا کے اب کچھ سکون ملے گا حسّن بھائی آپنی پڑھائی میں مشغول ہو گئے تھے تنیور بھائی اور عمیر بھائی بھی لیٹ گئے تھے تو ہم ونڈو سائید پہ بیٹھ گئے اور باہر سندھ کے وہ کھیت جن کو کسی خاطر میں نہیں لایا جاتا اور گرین پنجاب کا نعرہ لگایا جاتا ہے دیکھتے ہوئے اپنے دیگر نظریات پہ کام کرنے لگے ، اتنے میں شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار چیکو نے پھر ہیڈ فون پہ ڈھابہ بولنا چاہا  ، مگر اس دفعہ ہم محفوظ رہے اور بقی کا سفر چیکو پہ نظر رکھتے ہوے گزرا۔ ہیڈ فون کا معاملہ یہ تھا کے یہ سوچنے میں مدد دیتا ہے اور ہماری واحد کمزوری تھی۔ ابھی روہڑی نہیں آیا تھا اور اتنی ساری کارگزاری ہوچکی تھی۔ اس سارے معاملے میں ہم سے ٹرین کے وہ دیدہ زیب مناظر جن کی ہم گھر سے تمنا کرکے نکلے تھے چھوٹ چٌکے تھے۔

  ان سارے مستی مذاق کے بعد کھانے کا وقفہ شروع ہوا چاہتا تھا، روہڑی سی  پہلے نواب شاہ پہ آئس کریم کھانے کا مزہ ہی الگ تھا پھر اس کے بعد کسی قسم کی تفریح کی تاب نہ لاتے ہوئے ہم سوگئے اور جب ان آنکھ کھلی تو روہڑی آچکا تھا ، دماغ نے جب کام کرنا شروع کیا جب یہ پتہ چلا کے سکھر سے عزیر بھائی نے کھانا بھجوایا ہے ، پہلے تو دل مایوس ہوا کے کسی مشہور تھیلے کی بریانی ہی ہوگی مگر دریافت کرنے کے بعد دل و دماغ و بماع پیٹ کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا کیوںکہ عزیر بھائی نے اس کھانے میں ہمارے لیے خصوصی ڈش قورمے کا اہتمام کیا تھا قورمے کے ساتھ ساتھ بریانی اور چھولے کا سالن بھی تھا جو ہماری توجّہ کا مرکز نہیں تھا۔ اسٹیشن پہ اترے ، ایک تو گرمی انتہا کی اوپر سے کراچی سے بھی زیادہ کالا پانی۔ ہاتھ منہ دھونے کا خیال فورن اپنے دماغ سے ترک کیا اور ہاتھ صاف کرکے کھانے کے ساتھ انصاف کرنے بیٹھ گئے۔ سب کو لگ رہا تھا گرمی کی شدّت کی وجہ سی شاید کھانا کھانے میں کوئی کمی بیشی ہو جائے مگر اللہ بھلا کرے عزیر بھائی کا جن کی وجہ سے اتنا مزےدار کھانا نوش فرما رہے تھے۔ اب سونے کا وقت تھا اور سب نے پیٹ بھر کے خوب نیند پوری کری اور اب سب اپنے اپنے مشاغل میں مصروف تھے کیونکہ ہم کھڑکی کے ساتھ ہی بیٹھے تھے تو ہم نے کھیتوں پہ اپنی توجہ مرکوز کرلی اور گانے سننے میں مشغول ہوگیا ، سوچا کے کتنے خوبصورت ہیں گندم کے یہ سنہرے سنہرے کھیت جو کے تاحدنظر تک دیکھے جاسکتے تھے۔ سونے کی مانند یہ کھیت شروع میں دیکھنے میں تو انتہائی پرکشش لگ رہے تھے مگر ہم یہ بھول گئے تھے کے سنہری گندم کی فصل کو ہی کاتا جاتا ہے اس میں سے اناج الگ کرنے کا عمل شروع ہوتا ہے ، تھوڑا آگے چلنے کے بعد اس عمل کا بھی آغاز ہوچکا تھا اور اس میں سے نکالنے والا بھوسا ہمیں پریشان کرنے لگ گیا تھا مگر ابھی اتنے برے حالات نہیں ہوئے تھے کے بہاولپورآگیا۔ یہ شہر بھی ترقی کررہا ہے، سڑکیں، پل دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اسٹیشن پہ عمیر بھائی نے فون پر اپنا انٹرویو دیا ، آنکھیں آدھی بند، قمیض کے دو بٹن کھلے ہوئے عمیر بھائی لڑکھڑاتے ہوئے، یہ بھی اپنی قسم کا ایک انوکھا انڑویو دیکھا۔

بہاولپور گزرنے کی دیر تھی کے کھیتوں کو اناج میں تبدیل کرنے کا عمل دوبارہ ہمارے ارد گرد  شروع ہوچکا تھا اور اسکا سارا بھوسا ہم کھا رہے تھے۔ آنکھ ، ناک ، کان ، منہ میں تو بھوسا جا ہی رہا تھا امیرِ سفر نے ایک اور فرمائش کردی کے جو پریزنٹیشن کل دیکھانی ہے اس کی تیاری کرلیں۔ ابھی تک ہم بھوسا کھا رہے تھے یہ تو منظور تھا مگر ہمارے بیگم کو اس بھوسے سے کوئی تکلیف ہو یہ منظور نہ تھا۔ تو کرنا کیا تھا پورے ڈبہ کی کھڑکیاں بند کروادیں۔ یہ کوئی مشکل کام نہ تھا بس جو کھڑکی کھلی ہو اس کے پاس بیٹھے شخص کو گھور کر دیکھو اور کھڑکی بند کردو۔ کسی بیچارے کی ہمت بھی نہیں ہوئی منع کرنے کی ، بیگم کو مشکلات پیش آرہی تھیں اور یہ ہمیں کسی صورت برداشت نہ تھا، یہاں ہماری بیگم سے مراد ہمارا لیپ ٹوپ ہے۔ تیاری تو ایک بہانہ تھا، اصل میں تو فلم دیکھنی تھی اور وہ لگ گئی تھی، جس کا منظر ہماری فیس بک کی تصویر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ فلم دیکھتے دیکھتے ملتان آگیا۔ ملتان کی سب سے بہترین بات وہاں کا پانی ، اتنا صاف کے ہاتھ میں پانی بھرنے کے بعد آپ اپنے ہاتھ کی لکیریں دیکھ سکتے تھے۔ ہاتھ منہ دھویا اور پھر ایک آئس کریم کھائی اور چیکو کو بیت الخلا بھیج کر اپنی جگہ پہ اکر بیٹھ گئے، ٹرین ابھی چلی ہی تھی کہ شورمچھ  گیا کے کوئی پھنس گیا ہے باتھ روم میں گیٹ کھولو گیٹ کھولو۔ مجھے چیکو کا خیال آیا جا کر لوگوں کو ہتایا اور گیٹ کھولنے کی کوشش کرنے لگا ہی تھا کے کیا دیکھتا ہوں بدبخت سیدھے ہاتھ پہ کھڑا ہنس رہا ہے۔ بعد میں پتہ چلا کے کوئی انکل پنھس گئے ہیں اور اندر سے انکو سانس نہیں آرہی ہے ، میں نے سمجھانے کی بہت کوشش کی کے صبر رکھیں ورنہ سانس لینے میں اور مسلہ ہوگا مگر اتنی دیر میں بہت مجمع اکھتا ہو چکا تھا اور اب ہر کوئی اپنی اپنی تدابیریں لگا رہا تھا، جب کچھ کام نہ آیا تو ایک انکل کہتے ہیں کے اندر والا بندا پریشان ہو رہا ہے اس سے کم سے کم  باتیں کرو، میں نے کہا ہاں دو کا پہاڑا پوچھ لو اس سے، بس یہ کہنا تھا کے وہاں ایک سناتا سا چھا گیا اور میں اپنی جگہ پہ آگیا اور بقی کا ملتان انکل کو نکالتے نکالتے گزر گیا۔

اب ٹرین نے اپنا مردودپن دکھانا شروع کردیا ہے ، دو تین مشہور اسٹیشن بھی نکل چکے ہیں مگر ابھی بھی کافی وقت رہتا ہے، آدہی رات ہونے کو ہے۔ اور بھی لکھنا ہے مگر ٹرین سے باہر کوئی دلچسپ شہ نظر آرہی ہے۔ جب تک کے لیے وقفہ۔۔۔۔

Advertisements

پہلا سفر( حصہ اوّل )

زندگی بھی ایک عجیب شہ کا نام ھے، کس کو کہاں کب کیسے بدل دے کچھ نہیں بتا سکتے۔ کس نے سوچھا تھا کہ ایک لڑکا جس کے کالج کے دوستوں نے اُسکا گھر تک نہیں دیکھا تھا ، کالج تک اُسکا کوئی ایسا دوست نہیں تھا جس کے ساتھ وہ حیدرآباد سے کراچی تک کا سفر طے کرسکے ، آج کراچی سے لاہور کے سفر پہ گامزن ہے۔ ایسے ساتھیوں کے ساتھ جن کو وہ صرف چھ ماہ سے جانتا ہے یہاں یہ بات لکھنا اس لیے ضروری سمجھتا ہوں کیوںکہ سفر میں آپ یہ دھیان رکھیں کے یہ ایک بلکل ہی نیا امتحان ہے۔

آغازِ دن عفّان بھائی کی کال سے ہوا، نصف بند آنکھوں سی کال کو موصول کرتے ہوئے عفّان بھائی کو یہ یقین دہانی کروائی کہ پڑھائی کی وجوہات کچھ اس طرح سے ہیں کہ لاہور جانا کسی صورت مناسب نہیں۔ دن کے گزرنے کے ساتھ ساتھ جب یہ بھید مجھ پہ واضع ہوا کہ میرے لیے دو افرادِ محترم قربانی دیے بیٹھے ہیں اور پڑھائی کی مجبوریاں بھی سنبھالی جا سکتی ہیں تب دل میں ایک عجیب سی خوشی نے جنم لیا اور اپنے آپ سے سوال کیا کے کیا میں بھی لاہور جا سکتا ھوں؟ ۔ جواب ہاں میں تھا ، دماغ و دل یہ ٹاسک قبول کرچکے تھے ۔ حال ہی میں حیدرآباد سے واپسی پہ اس خیال نے میرے ذہن میں جنم لیا تھا کے یار ٹرین کے اصل سفر کا مزہ تو لمبے روٹ پر ہے اور لو آج ہم موجود ہیں اُسی سفر پہ جس کا تزکرہ صرف اپنے آپ سے کیا تھا، بیشک وہ ذات دلوں کے حال جانتی ہے اور ایسے غیب سی نوازتی ہے جہاں ہمارا گمان بھی نہیں ہوتا۔

یونیورسٹی کے بعد چار بجے آفس میں ملنے کا پروگرام ترتیب پایا تھا ، ہم نے بھی کراچی والے ہونے کا ثبوت دیتے ہوے ساڑھے چار بجے آفس میں قدم رکھا اور حذیفہ بھائی کے ساتھ لمبے کرنے میں مصروفِ عمل ہوگئے۔ عمیر بھائی اور حسّن بھائی کی آمد نے کہانی کو دل چسپ اس وقت بنایا جب ہم سے یہ سوال کیا گیا کہ بھائی روانگی کب اور کیسے ہے پہلے تو دل تو زور سے حماس ملک والا قہقہا مارنا کا کیا لیکن پھر آفس کے تقدس کا خیال کیا اور اپنے آپ کو کسی بھی قسم کی ٹھنڈی کرنے سے پرہیز کیا۔ تھوڑا ہاتھ پاؤں مارنے کے بعد قاضی بھائی نے مشکلات کو دور کیا اور ٹرین کی ٹکٹوں کا انتظام  شالیمار لوّر اے سی میں کروا دیا

ان ساری ہستیوں سے تعارف نہ کروانے کی وجہ یہ ہے کہ الفاظوں کا کافی کثیر مجموعہ درکار ہے اس کام کو انجام دینے کے لیے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ لمبی نہ کی جائے۔ آفس سے پانچ بندے اؤبر میں شام کے وقت روانہ ہوئے۔  یہ وہ پہلا اتفاق تھا جب سوچا کے شاید پیدل ہی اسٹیشن چلے جاتے تو زیادہ بہتر تھا کیونکہ ڈرائیور اور اسکے سوالات یا خدا۔ سب سے زیادہ مزیدار سوال قاضی بھائی سے ہوا۔ “یہ آپ لوگ سب ایک جیسی شکل کے مالک کیوں ہوتے ہیں”،  اب اسکا جواب قاضی بھائی کے پاس تو نہیں تھا مگر ہم چار لوگوں کے پاس ایک سوال ضرور تھا کے یہ بندا کون ہے؟ آئی ایس آئی، ایم آئی یا کوئی اور ۔ پھر رات تک قاضی بھائی کے ساتھ لمبی اور کچھ یادیں تازہ کرنے دوسرے آفس چلے گئے وہاں اس بات سے بھی پردہ اٹھایا گیا کہ جن موصوف کو ٹکٹ لینے بھیجا تھا وہ محترم اکانومی کا ٹکٹ لے ائے ہیں اور ٹرین کل صبح چھ بجے کی ہے، اتنا فارغ اپنے اپ کو سالوں سے محسوس نہیں کیا تھا، اب ہر کام ہم دھیرے دھیرے کر رہے تھے، کیونکہ وقت تو اب ہمارے باپ کا غلام بن گیا تھا۔ اس کے بعد اپنے آپ کو تنویر بھائی کی مہمان نوازی میں پیش کردیا کہانی کے اتنے تیز گزرنے کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمیں خود نہیں پتہ چل رہا تھا کے کیا چل رہا ہے۔ وقت گزرنے کی اصل وجہ قاضی بھائی کی باتیں تھیں، آپس کا شغل یا رات کی مست نیند ابھی تک واضح نہیں ہے۔ صبح اسٹیشن کے باہر ناشتے کے بعد چھ بجے آغازِ سفر ہوا۔ ہم، عمیر بھائی، تنور بھائی ،حسّن بھائی ،حذیفہ عرف چیکو، اور سفید شلوار قمیض میں ملبوس آنکل ٹرین میں سفر کی نیّت کرچکے تھے ۔

سفر کے آغاز سے ہی کارستانیاں شروع ہوگئی ہیں، میرا ٹکٹ چھُپا کرٹکٹ چیکر کو گمراہ کرنے کی سازش کی گئی وہ تو بھلا ہو ہماری گہری اضطراری کا کے وہ کوشش بھی ناکام کری اور اب تک بھی بچے ہوے ہیں۔ اب ٹرین حیدرآباد کی طرف رواں دواں ہے فی الحال سوجانے میں ہی بھلائی ہے۔

بقہ حصہ نیند مکمل ہونے کے بعد۔۔۔۔۔