ایک درد یہ بھی۔۔

بہت عرصے بعد احساس ہوا کے ہمارا احساس ابھی مرا نہیں ہے، زیادہ بہادری، شوخے پن یا اور کسی وجہ سے اُس کو کہیں دفن کر آئے تھے یہ احساس کافی سالوں بعد ہو رہا تھا ، اتنے سالوں بعد کے سمجھ بھی نہیں آرہا تھا کے اس احساس کو کیا نام دیں یا اس احساس کو بولتے کیا ہیں ، کچھ دماغ پہ زور ڈالنا چاہا تو اُس نے فوراََ ہی معذرت کرلی ، جیسے کسی بہت ہی قریبی نے اہم ضرورت میں ساتھ چھوڑ دیا ہو۔ خیر لمحوں بعد ہی اسکو ہماری حالتِ زار پہ ترس آگیا تھا اور کسی سچے مخلص کی طرح ہماری مدد کو حاضر تھا۔ گزشتہ احساسات کو ناپ تول کے ہمیں یہ اندیشہ دیا کے کہیں یہ درد تو نہیں ، درد ؟

درد یہ درد کیا ہوتا ہے ، اس کے لفظی معنٰی کیا ہوتے ہیں اور اس کو واضع کیسے کرتے ہیں؟ ، ایسے کئی سوال لمحہ بہ لمحہ ہمارے دماغ میں جنم لے رہے تھے۔ دماغ جو کے اپنی معمول کی رفتار سے دوڑنا شروع کرچکا تھا کچھ ہماری رہنمائی کے قابل ہوگیا تھا۔ جو واقع دماغ کو مفلوج کردے وہ درد ہی تو دے رہا ہے ہاں ۔۔ ، شاید نہیں ، بلکہ بلکل ہاں یہی تو درد ہے۔ اب تک صرف جسمانی نقصان اور جسمانی تکلیف کو ہی درد تسلیم کر رہے تھے مگر دماغ کا کیا جو دن بھر درد پہ درد سہے جا رہا ہوتا ہے ، خون کے گھونٹ پیے جا رہا ہوتا ہے۔ آج کچھ ایسا ہی دماغ کو مفلوج کردینے والا واقع رونما ہوا جس کے بعد آنے والے جھٹکے ابھی بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں ، دل ۔۔۔،  نہیں دل نہیں صرف دماغ ہمارا صرف وہی کام کرتا ہے۔ ہمارا موبائل ، اکلوتا تو خیراب نہیں تھا ، مگر دل و جان سے عزیز تھا۔ شاید کسے دوست وغیرہ  سے بھی بچھڑنے پر وہ درد محسوس نہیں ہوتا جو اپنے نیکسز 5 ایکس کے چلے جانے پر محسوس کیا، 10 منٹ کے لیے تو سمجھ ہی نہیں آیا کے  کیا دنیا ابھی بھی بقی ہے ؟ کل کا سورج طلوح ہوگا بھی یا نہیں کچھ ایسے ہی احساسات کے ساتھ اِس آس میں ہیں کے شاید کراچی کی موبائل مارکیٹ کوئی کارنامہ انجام دے اور ہمیں اپنے موبائل کا ساتھ نصیب ہو، آمین۔

بناؤ اور بگاڑ

ان الفاظوں کو ترتیب دینے کا مقصد کسی کی دل آزاری ، حوصلہ شکنی، کسی نئ بحث کا آغاز یا کسی بھی فرد،تنظیم یا جماعت  کو تنقید کی بھینٹ چڑھانا ہرگز نہیں ہے ،بلکہ اُس نقطہ نظر اور سوچنے کے زاویے کا پرچار کرنا ہے جس سے آج برِصغیر کے لوگ خاصے دور چلے گۓ ہیں۔ جی آپنے سہی پڑھا برِصغیر کیونکہ ہمیں پوری دنیا کی اصلاح کے لیے بھیجا گیا ہے نہ کہ صرف پاکستان کے لیے۔

اس بات کو سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ اس دنیا کو جس خدا نے تخلیق کیا ہے ، اِس کے آسمانوں کو گرنے سے روکے رکھا ہے، اِن سمندروں کو زمینوں پہ چڑھ  دوڑنے سی باز رکھا ہے ، اِس زمین میں طرح طرح کے خزانے آگائیں بھی ہیں اور دفنائیں بھی ہیں ان پہاڑوں ، سورج ، چاند و ستاروں کو اپنے تابع رکھا ہے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے اس بچھائے ہوئے اَرض پہ کچھ بھی اپنی مرضی کے منفی ھونے دے۔

جس طرح سے صبح سورج کا مشرق سے نکل کر مغرب میں غروب ہوجانا، زمین کا ایک ہی زاویے اور رفتار سی سورج کے گرد گھومنا ، حلانکہ پوری نظامِ کائنات ایک مکمل منصوبہ بندی اور قانونِ خداوندی کے تہت چل رہا اور خدا آپنے قانون میں تبدیلی بہت کم کرتا ہے۔ اور اسکا ایک قانون اور اصول یہ ہے کہ وہ بناؤ کو پسند کرتا ہے اور بگاڑ کو پسند نہیں کرتا۔

آج تک اس زمین پر جتنی بھی قوموں کو حکمرانی نصیب ہوئی ہے ،انہوں نے یا تو اس دنیا میں کو بنایا یا اس دنیا کے لیے بگاڑ کا سبب بنے۔ خدا نے آدم علیہہ سلام سے اب تک اپنی زمین پر کبھی ایسی قوم، بادشاہ یا حکمرانوں کو برداشت نہیں کیا جو بناؤ سی زیادہ بگاڑ کا سبب بنے۔ فرِعون کو بادشاہت اپنے عدل و انصاف کی وجہ سے ملی رہی ، وہ تو جب اسنے خدائی کا دعوا کیا تب خدا نے اسکو نِیست و نابود فرمایا ، مسلمانوں نے بھی تب تک دنیا پے حکمرانی کری جب تک بگاڑ کی روش اختیار نہ کرلی پھر مغلوں نے بھی تب تک عیاشی کی جب تک برَصغیر کی خدمت کرتے رہے، جہاں خدمت رکی وہاں خدا نے کچھ مصیبتوں کی شکل میں موقعے فراہم کیے کہ باز رہو پھر بلاآخر انگریزوں کو لاکر بیٹھا دیا اور ان سے بناؤ کے کام لیے۔ نسل ، رنگ ، غصے کو اگر ایک طرف رکھ دیں اور اپنے دماغوں پہ زور ڈالیں تو اس بات کو رَد کرنا انتہائی اہمقانہ ہوگا کہ انگریزوں نے پوری دنیا میں کوئی سوارنے اور سدھارنے کے کام نہیں کرے، انگریزوں نے دنیا کے جن ملکوں میں حکمرانی کری وہاں اتنا کام کیا کے وہاں کے مقامی حکمران بھی پورے مخلص دل و دماغ کے ساتھ نہیں کرسکتے تھے، پھر انگریزوں کے ساتھ بھی خدا نے دو سو سال بعد انصاف کا معاملہ فرمایا جب انہوں نے بگاڑ کی روش کو اپنا لیا۔ اصول صاف ہیں کے دنیا کا انتظام ٹھیک کیا جائے، اسے زیادہ سے زیادہ سنوارا جائے ، اس کے دیے ہوے زرائع اور بخشی ہوئی قوتوں اور قابلیتوں کو زیادہ سے زیادہ بہتر طریقے سے اس استعمال کیا جائے۔

خدا ، دنیا اور دنیا کی بادشاہت اسی طرح ہے جیسے کوئی مالک اپنے باغ کے لیے مالی کا انتخاب کرتا ہے۔ جب تک مالی باغ کی خدمت اور بناؤ سنگھار میں لگا رہتا ہے اپنی ساری محنت اور قوّت باغ کی ترقی اور حسن کو بڑھانے میں خرچ کرتا رہتا ہے مالک اُس کو اسکے عہدے پہ فائز رکھتے ہے۔ مگر جہاں وہ سستی ، بے پرواہی اور ہٹ دھرمی کی روش اختیار کرلیتا ہے تو مالک اسکو کسی بھی مزہبی سفارش کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اس باغ کے اعلا عہدوں سے بے دخل کرکے ان پر دوسرے لوگ فائز کردیتا ہے۔  کچھ قومیں اس بات کو اپنا حق تصوّر کر رہی ہیں کے ہمیں پھر سے اس باغ کی حکمرانی ملے گی کیونکہ ہمارے باپ دادا نے اس باغ کی خوب خدمت کری تھی یہ دو پودے میرے آبا حضور کے لگائے ہوئے ہیں ، وہ والا درخت میرے چاچا نے لگایا تھا ، یہ ایک خام خیالی ہے۔ انہوں نے کچھ بھی کیا ہو مالک کا اصول یہ ہے کہ ہم آج کیا کرسکتے ہیں ، اس باغ کی حکمرانی صرف ان کو ملتی ہے جو کے مخلصانہ دل و دماغ کے ساتھ اس کی خدمت اور ترقی کا عزم رکھتے ہیں۔ یقین نہیں آتا تو وہ چھوٹی آنکھوں والے زیادہ دور نہیں ہیں۔

یہ ساری باتیں کرنے کا مقصد کسی کو ناامید کرنا ہرگز نہیں ہے، نہ تو میں ناامید ہوں اور نہ ہی ناامید کرنا چاہتا ہوں۔ یہ تحریر تو وہ بادشاہی سوچ کے خاتمے اور اصلاح کی طرف محنت کی ترغیب دینے کے لیے ترتیب دی گئی ہے۔

  بگاڑ کے عناصر :۔

خدا کا خوف دلوں سے ختم ہوجانا ، جو کے برائی کی جڑ ہے

خدا کی ہدایت سے بےنیازی

خود غرضی

جمود یا بے راہ روی

اصلاح کے عناصر :۔

خدا کا خوف

خدائی ہدایت کی پیروی

نظامِ انسانیت

عملِ صالح

اگر ہم سب ایک نیک انسانوں کی تنظیم کی طرح بگاڑ کے اسباب کو روکنے اور بناؤ کی صورتوں کو عمل میں لانے کے لیے پیہم جدوجہد کریں جو کے باشندوں کو راہِ راست پہ لاسکے تو وہ خدا بے انصاف نہیں ہے جو اس دینا کی زمہ داری کسی نالائق کو سونپ دے، مگر اگر اس کے برعکس ہوا تو شائد ہم اندازہ بھی نہیں لگا سکتے یہاں رہنے والوں کیا انجام ہوگا۔

بچّوں کی اہمیت

جب آج کے اچھے پڑھے لکھے ماں باپ سے پوچھا جاتا ہے کہ اپکے گھر سب میں زیادہ اہمیت کا حامل کون ہے تو عام طور پہ جواب “ننّھے منّے معصوم بچّے ہی ہوتا ہے”, وجہ کسی کو نہیں معلوم ۔ کبھی تو والدین اس سوال پہ جزباتی ھوجاتے ھیں اور ہمیں تنقید کا سامنا کرنا پرتا ہے کہ اپنے یہ سوال پوچھا کیسے, شرم نہیں آتی اپکو یہ سوال پوچھتے ہوے ۔ اسی تصوّر کو دماغ میں رکھتے ہوئے اس خاکہ کے ذریعہ بہت سارے نکات کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے۔

ہمارا سوال یہ ہے کہ کس نے ان چھوٹے جانداروں کو یہ درجہ دیا  ہے یا ایسی کونسی وجوہات ہیں جس کی وجہ سے انکو ایسے اعزازوں اور خدمات سے نوازہ جاتا ہے۔

اگر اپنے دماغوں کو وسیع کرنے کی کوشش کرتے ہوے (مانتا ہوں مشکل ہے) ان نکات پہ غور کریں کہ آج اِنکے بچّے جس بھی مقام پہ ھیں صرف اور صرف اِن ہی کی بدولت ہیں۔ بچّوں کا وجود ہی اِنکے والدین کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ رہن سہن ، یہ اچھے سے اچھے کپڑے ، یہ پڑھائیاں ، ہر قسم کہ لذیذ کھانے، گھر والدین کی ہی وجہ سے ہیں۔ پھر بھی والدین اپنے چھوٹے آقائوں کی اس طرح خدمت کرتے ھیں جیسے کبھی بھی اِن کو سزاے موت سنائی جا سکتی ہے ورنہ کوئی نہ کوئی سزا کے تو ضرور مرتکب ہوں گے۔ یہاں خدمت سے مُراد بچوں کی ضرویات پوری کرنا ہرگز نہیں ہے۔ یہاں خدمت کو بچّوں کا بِلا وجہ وکیل بننے ، اُن کی ناجائز باتوں کو صحیح ثابت کرنے، اُن کےغصّوں کو برداشت کرنے ، غصوں کے نشاندہی کرنے اور اُن کے غلط حرکتوں کو مزاق بنانے سے تشبیع دیا جارہا ہے۔ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ والدین کا پیار بہت عجیب شہ ہے صحیع مقدار میں ہو تو اِقبال ، جوہَر اورعِمران پرورش پاتے ہیں ورنہ بچّے تباہ و برباد ہوجاتے ہیں۔

  بچّے جتنے ہی بڑے یا چھوٹے ہوجائیں ، جتنے پڑھے لکھے یا ان پڑھ ہوں، جتنے کامیاب یا ناکام رہیں کسی بھی طرح اپنے ماں باپ سے زیادہ اہمیت کے حامل نہیں ہوسکتے۔

فوج میں سب سے زیادہ عزت اور اہمیت آفیسر کی ہوتی ہے ، اس طرح کلاس میں بھی استاد کی عزت کا کوئی ثانی نہیں ہوتا ، جو اہمیت ڈاکٹر کو حاصل ہے وہ کسی اور کو نہیں اور کمپنی میں کسی کی مجال نہیں ہوتی کے مالک کو کچھ کہ سکے۔ یہی عزت والدین کی بھی ہوتی ہے، چاہیے جو کچھ بھی بچّوں کی عمر ہو۔

والدین کی اوّل فکر یہ نہیں ہونی چاہیے کے اُن کے بچے اپنے اسکولوں میں اے گریڈ حاصل کریں ، کھیلوں میں سب کو پیچھے چھوڑ دیں یا بہت ہی اعلا درجے کے آفسر ، سرجن بن جائیں بلکہ ہمیں تو ایک ایسی نسل تشکیل دینی ہے جو اپنے الّلہ رسول ﷺ کو راضی کرے ، حقوق الّلہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد بھی خوش اسلوبی سے انجام دیں اور معاشرے، برادری اور ثقافت کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چل سکیں۔

“ہمارا بچا اِس گھر کا سب سی زیادہ اہم فرد ہے۔”

سوچیں ! اپنے بچوں کو اوّل اور اہم بنانے کے لیے کیا کیا کھو رہے ہیں ۔

 John Rosemond کی تحقیق کے کچھ نکات پر نظر

Myths behind Apple Logo

Apple Inc. logo story and Myths about it.

so,

Myth 1 : “Apple Computes Inc. logo was inspired by Isaac Newton.” 

S8l2x.jpg

Myth 2 : “Apple adopted this logo because they wanted to pay tribute to father of Modern Computers and great Mathematician Alan Turing , who broke Enigma code in WWII and won a war for England and Allies.
He was a gay and did suicide by eating Apple with a cyanide poison”.

Logo 2

Apple_Computer_Logo_rainbow.svg.png

Myth 3 : “Bitten Apple portrays the story of Adam and Eve. Apple represents the lust for knowledge and is considered  as a fruit of knowledge because of Adam & Eve and obviously Isaac Newton”.

True Story

Steve Jobs was working in McIntosh Apple orchard. He named this company on his favorite fruit. When Jobs uttered the name ‘Apple’, Wozniak laughed and said,

‘It’s a computer company, not a fruit store.’

In a press conference in 1981, Jobs was asked why he named the company ‘Apple’.

“I like apples and love to eat them. But the main idea behind the apple was to bring simplicity to the people, in the most sophisticated way and that was it, nothing else”.

First Logo “Newton Cresent Logo” was made by  Ronald Wayne in 1976, who is the third co-founder of the Apple Company, designed its first logo.

After the Newton Crest, Jobs decided to explore something new, something different, for the logo. Hence, he hired Rob Janoff as the designer to come up with something modern.

Jobs and Rob Janoff was really inspired by hippie culture of that time and Jobs wanted every one to think different(ly).

“He wanted the green on the top because there was a leaf there”, explained Janoff.

According to Janoff, the bite on the Apple logo was to really let people know that it was an apple and not a cherry. The bite also played along with the computer buffs at that time because it had a similar sound off to the word ‘byte’, a unit of digital information in computing and telecommunication.

apple_logo.png

then Apple Inc. moved to different version of logo because Rob Janoff logo was not fit well with metal casing of new Apple products. This logo was active 1998-till date.

Stories are cool and simple but we made them fabricated and then rumors and falsehood takes place. 

Jobs said 

steve-jobs-isad.jpg

Hope you enjoyed the blog .. 🙂