معمولی یا خاص

کلاس کے دوران ہی اس بات کا راز ہم پہ آفشاں ہوا کے چھٹیوں کے لیے زیادہ دن نہیں مل رہے ہیں جس کی وجہ سے فوراََ ہی گھر پہنچ کر جلدی جلدی کپڑے سمیٹے اور اپنی منزل کی طرف نکل پڑے ، آج کا موسم بقی دنوں کے مقابلے قدرے بہتر معلوم ہورہا تھا، اس دفعہ ٹرین کے بجاۓ بس کے سفر سفر کا انتخاب کیا گیا تھا، یہ فیصلہ صرف اور صرف وقت کی نزاکت کو مدِنظر رکھتے ہوۓ کیا۔ جلدی جلدی گھر سے چل پڑے اور بس اسٹیشن کا راستہ لیا، بس اسٹیشن پہنچ کر سب سی پہلے بسوں کا جائزہ لگایا۔ موسم آبرالود ہوچکا تھا۔ مگر  حبس کا تناسب ماحول میں زیادہ تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے باندھا ہوا ہے ہواؤں کو بادلوں نے۔ اسٹیشن میں نام کے پنکھے چل رہے تھے۔ اپنا سامان ایک سیٹ پہ رکھ کر، بقی مسافروں ، جو کے اپنے اپنے مشاغل میں مصروف تھے ، اُنکا جائزہ لیا اور ٹکٹ گھر کی طرف چل دیے جو کے خالی تھا سواۓ ایک ٹکٹ منیجر کے، بسیں متعدد تعداد میں اور مسافر قلیل پھر بھی کرایہ میں اضافے کی مانگ سراسر ناجائز تھی۔ جس کی وجہ سے منیجر سے بحث ضروری تھی۔ ابھی اپنا ٹکٹ مناسب قیمت پر حاصل کرکے واپس اپنی سیٹ کی طرف لوٹ رہے تھے کے ایک دھیمی پرشگفتہ اور سہمی ہوئی آواز نے اگے بڑھتے  ہوۓ قدموں کو روک لیا۔ “وہ ۔۔۔ وہ بس والے زیادہ پیسے بول رہے ہیں ، آپ کچھ مدد کرسکتے ہیں؟” یہ اجنبی آواز کچھ اپنائیت کا لحجہ لیے ایک التجہ کا پتلہ بنی ہوئی تھی۔۔۔۔

سنیں۔ آپ میری بات سن رہے ہیں نہ” ، ابھی تک ہم ان کے لحجے کو پوری طرح قبول ہی نہیں کر پاۓ تھے۔ مڑ کر جیسے جیسے ان کو دیکھتے جا ہے تھے ، ہواؤں کی رفتار میں اضافہ محسوس ہوتا جا رہا تھا۔ سفید دپٹہ اور نیلا سوٹ زیب تن کرے ایک درمیانے قد کی محترمہ نہایت آدب اور شرمندگی کے ساتھ سر کو جھکاۓ ہمارے جواب کی منتظر کھڑی تھیں۔ شاید کوئی مجبوری ہوگی ورنہ وہ یہ جرّت کبھی نہیں کرتی اُس کی بودی لینگوئچ یہ صاف ظاہر کر رہی تھی۔ اُن کا اور امتحان نہ لیتے ہوۓ ہم نے حامی بھری اور ٹکٹ کاؤنٹر کی طرف ہولیے۔ راستہ کم اور ٹکٹ لینے والوں کی قطار خالی جس کی وجہ سے نہ ٹکٹ لینے میں وقت لگا اور نہ ہی اس واقع کے بارے میں سوچنے کا۔ ان کا ٹکٹ خریدا اور ان کو پیش کردیا۔ وہ مسکرائیں اور  پوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

ابھی ہم انکی مسکراہٹ کے معنٰوں میں سے معنٰی خیز بات آخز کرہی رہے تھے کے بس نے زور سی ہارن بجایا۔ بس کو آنے کے تسلی دی کر جیسے ہی دوبارہ انکی طرف مخاطب ہونے کے لیے مڑے تو وہ موصوفہ اس جگہ پہ نہ تھیں جہاں ہماری آنکھوں نے انھیں چھوڑا تھا۔ ابھی تو ہم صرف آنکھوں اور مسکراہٹ سے ہی آشنا ہوۓ تھے اور یہ ملاقات اتنی جلدی اختتام پزیر بھی ہوگئی۔ وہ مسکراہٹ ابھی بھی دل کی تسلی کا باعث بن جاتی ہے جب بھی اُس واقع کا زکر دماغ میں ہوتا ہے۔ ملاقات ختم ہونے کے صدمے سے اپنے آپ کو نکالا اور ان کو اِدھر اُدھر تلاش کیا مگر انکی کوئی جھلک بھی قریب میں نہ تھی۔ انکے پتے کے لالچ میں ٹکٹ کاؤنٹر کی طرف لپکے تو معلوم ہوا کے وہ ٹکٹ تو شام کی بس کا ہے۔ اس لحجے ، اس شگفتگی اور عجزانہ صحبت میں کسی چیز پر ٖغور ہی نہیں کرپاۓ تھے۔

خیر کوئی نہیں ہوتا ہے، چلتا ہے ، دنیا ہے ۔ اس ہی آس میں کے شاید پھر دنیا کے کسی کونے میں وہ مسکراہٹ ، جس کا زکر ابھی لبوں کے مسکرانے کا باعث بن جاتا ہے، پھر دیکھنے کو مل جائے۔ بظاہر تو بہت ہی معمولی ملاقات تھی مگر زندگی کے سفر میں ایک خاص یاد اور ملاقات کی چھاپ چھوڑ گئی تھی۔

ایک درد یہ بھی۔۔

بہت عرصے بعد احساس ہوا کے ہمارا احساس ابھی مرا نہیں ہے، زیادہ بہادری، شوخے پن یا اور کسی وجہ سے اُس کو کہیں دفن کر آئے تھے یہ احساس کافی سالوں بعد ہو رہا تھا ، اتنے سالوں بعد کے سمجھ بھی نہیں آرہا تھا کے اس احساس کو کیا نام دیں یا اس احساس کو بولتے کیا ہیں ، کچھ دماغ پہ زور ڈالنا چاہا تو اُس نے فوراََ ہی معذرت کرلی ، جیسے کسی بہت ہی قریبی نے اہم ضرورت میں ساتھ چھوڑ دیا ہو۔ خیر لمحوں بعد ہی اسکو ہماری حالتِ زار پہ ترس آگیا تھا اور کسی سچے مخلص کی طرح ہماری مدد کو حاضر تھا۔ گزشتہ احساسات کو ناپ تول کے ہمیں یہ اندیشہ دیا کے کہیں یہ درد تو نہیں ، درد ؟

درد یہ درد کیا ہوتا ہے ، اس کے لفظی معنٰی کیا ہوتے ہیں اور اس کو واضع کیسے کرتے ہیں؟ ، ایسے کئی سوال لمحہ بہ لمحہ ہمارے دماغ میں جنم لے رہے تھے۔ دماغ جو کے اپنی معمول کی رفتار سے دوڑنا شروع کرچکا تھا کچھ ہماری رہنمائی کے قابل ہوگیا تھا۔ جو واقع دماغ کو مفلوج کردے وہ درد ہی تو دے رہا ہے ہاں ۔۔ ، شاید نہیں ، بلکہ بلکل ہاں یہی تو درد ہے۔ اب تک صرف جسمانی نقصان اور جسمانی تکلیف کو ہی درد تسلیم کر رہے تھے مگر دماغ کا کیا جو دن بھر درد پہ درد سہے جا رہا ہوتا ہے ، خون کے گھونٹ پیے جا رہا ہوتا ہے۔ آج کچھ ایسا ہی دماغ کو مفلوج کردینے والا واقع رونما ہوا جس کے بعد آنے والے جھٹکے ابھی بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں ، دل ۔۔۔،  نہیں دل نہیں صرف دماغ ہمارا صرف وہی کام کرتا ہے۔ ہمارا موبائل ، اکلوتا تو خیراب نہیں تھا ، مگر دل و جان سے عزیز تھا۔ شاید کسے دوست وغیرہ  سے بھی بچھڑنے پر وہ درد محسوس نہیں ہوتا جو اپنے نیکسز 5 ایکس کے چلے جانے پر محسوس کیا، 10 منٹ کے لیے تو سمجھ ہی نہیں آیا کے  کیا دنیا ابھی بھی بقی ہے ؟ کل کا سورج طلوح ہوگا بھی یا نہیں کچھ ایسے ہی احساسات کے ساتھ اِس آس میں ہیں کے شاید کراچی کی موبائل مارکیٹ کوئی کارنامہ انجام دے اور ہمیں اپنے موبائل کا ساتھ نصیب ہو، آمین۔